محمد تہامی بشرؔ علوی

قاری مسعود یوسف ؒ کی یاد میں

تحریر : محمد تہامی بشرؔ علوی

دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری کی فضاؤں میں قاری صاحب کا تذکرہ ایک منفرد شخصیت کے طور پر سننے کو ملا کرتا تھا۔جب ہم دارالعلوم ایڈمیشن کے سلسلے میں پہنچے تو طلبہ قاری صاحب کی دلیری کے قصے سنایا کرتے تھے۔ان سے ملاقات سے پہلے ہی ان کے تذکروں نے ملنے کا تجسس بڑھا رکھا تھا۔قد میانہ، نگاہیں عقابی، چہرہ پُررعب ، پہلی ملاقات میں ہی ان کی وجیہ شخصیت دل میں گَر کر گئی۔قدرت نے انہیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے محاسن سے وافر حصہ عنایت فرمایا تھا۔ آپ کی شخصیت میں، جو محاسن مجھ پر کھُل سکے، ان میں کم گوئی ، جرات مندی اور فصلِ نزاعات کا ہنر نمایاں تھا۔ قاری صاحب دھیمے لہجے میں مختصر اور دوٹوک بات کیا کرتے تھے۔جو بات انہیں درست معلوم ہوتی تھی، کسی لگی لپٹی کے بغیر دبنگ انداز میں کہہ جایا کرتے تھے۔طلبہ کے مابین ہو جانے والی ناچاقیوں کو لمحوں میں سلجھا دیا کرتے تھے۔ قرب و جوار سے کئی لوگ اپنے تنازعات قاری صاحب کے حضور لاتے تھے اور یہاں سے جانے سے پہلے ان کے معاملات سلجھ چکے ہوتے تھے۔ ناحق کیسز کی زد میں آئے بے نواؤں کی دستگیری قاری صاحب نے خود پر گویا فرض کر رکھی تھی۔ بے بسی سے دوچار لوگوں کی داد رسی، قاری صاحب کی وہ دل چسپ عبادت تھی، جس میں ان کی روح پوری طرح اتر آتی تھی۔ قاری صاحب ایک مذہبی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ فن قرات میں آپ کو کمال حاصل تھا۔آپ کی حسنِ قرات کا بے ساختہ اسلوب، حشر تلک، پلندری کی فضاؤں میں مہکتا رہے گا۔ ہم نے دیکھا کہ نمازِ تراویح میں آپ کی حسنِ قرات کا حظ اٹھانے، دور دراز سے لوگ آیا کرتے تھے۔ چند لوگوں سے سنا کہ وہ ارادہ تو آٹھ تراویح تک کا ہی کر کے نیت باندھتے تھے، لیکن قاری صاحب کی قرات کا سِحر انہیں بیس رکعات تک بہائے لے جاتا تھا۔

آپ نے خود کو مسلکی تنگ نائے میں محدود رکھنے کے بجائے، خدمتِ خلق کے وسیع افق کو اپنائے رکھا۔ معاشرے میں طلاق وغیرہ جیسے مسائل ہینڈل کرتے ہوئے آپ، مسلکی علما کے برعکس، فقہی توسع پر مبنی رائے کو اہمیت دے دیا کرتے تھے۔ اسی مزاج کے زیرِ اثر میری قاری صاحب سے ایک ذوقی مناسبت تھی۔ قاری صاحب بھی، میرے ساتھ ہمیشہ شفقت کا معاملہ کیا کرتے تھے۔ چند ماہ پہلے جب قاری صاحب سے ملاقات ہوئی تو ، اپنے بے باک اسلوب میں ، مجھے اہم مشوروں سے نوازا۔ میری طالبِ علمانہ سرگرمیوں بارے تحسینی کلمات سے نوازنے کے بعد فرمایا : آپ کے والدین تو ابھی زندہ ہیں نا ؟ عرض کیا : جی جی قاری صاحب ! فرمانے لگے : آپ کے سب سے بڑے پیر وہی ہیں۔ ان کی خدمت اور دعائیں حاصل کرتے رہو۔ یہ نہ ہو کہ آپ ان کے سامنے “علامہ” بن کر بیٹھے رہیں۔دارالعلوم سے جب میری تعلیم کی تکمیل ہوئی تو قاری صاحب فرمانے لگے، ” تم دارالعلوم میں رہ کر ہی دین کی خدمت کرتے رہو، ہم آپ کا خیال رکھیں گے”۔

حضرت شیخؒ اور ان کے خانوادے سے، سپاس و محبت کا رشتہ ہمیں خونی رشتوں کی مانند عزیز ہے۔ اس خانوادے کی متنوع خدمات کا اعتراف و احساس نہ کرنا ، یقیناًنا انصافی ہے۔ حضرت شیخؒ کے مشن کے فروغ میں، ان کےفرزندِ اکبر استاذِ گرامی حضرت مولانا سعید یوسف خان حفظہ اللہ اور مشنِ شیخ کے دفاع میں حضرت قاری صاحب ؒ کے اسمائے گرامی صفحہِ تاریخ میں ہمیشہ ثبت رہیں گے۔ سچ یہ ہے کہ قاری صاحب خانوادہِ یوسفی کی آن تھے۔ دارالعلوم کے مینارہِ عظمت کا خمیر، آپ کی جراتوں کا احسان مند رہے گا۔ جب آپ کی وفات کی خبر سنی ،تو دل ماضی کے جھروکوں میں کھو گیا۔ لوحِ دل پر نقش قاری صاحب کی شخصیت کا ہرہر عکس ، نمودار ہو ہو کر، ان کی یاد کا جادو بے طرح جگائے جا رہا تھا۔اس سانحہِ وفات کی خبر سنتے ہی نمازِ جنازہ میں شرکت کو پلندری پہنچا۔ قاری صاحب کو سلامِ الوداع کہنے، خلقِ خدا کا جمِ غفیر امنڈتا دیکھ کر، دل میں قاری صاحب کی شخصیت کی ہمہ گیری کا احساس دو چندہوا ۔ دلی دعا ہے کہ مالک ،خانوادہِ یوسفی کے غم میں شریک ہم سب پس مندگان کو توفیقِ صبر بخشے رکھے۔ قاری صاحب کی جملہ حسنات کا بہترین صلہ بخشے او ر ہر لغزشِ حیات سے درگزر فرمائے۔ اُن کی اولاد اور ہمارے بہن بھائیوں کو اس کڑے صدمے کی تلخیوں سے نجات عطا فرمائے اور ان سب کی زندگیاں وقفِ خیر رکھے۔
آمین یا رب العٰلمین۔

(13 اکتوبر 2020)