راولاکوٹ‌کے نوجوان کو اغواء کرنے کی کوشش کرنے والے”نا معلوم” افراد کو مقامی لوگوں نے پھینٹی لگا دی

تازہ ترین۔ 

گزشتہ روز ایف آئی اے کی طرف سے ایک نوجوان کو جبری طور پر گرفتاری کی کوشش کو مقامی لوگوں نے ناکام بناتے ہوئے اہلکاروں کی دھلائی بھی کر دی اور انھیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

اسی سلسلے میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے اہلکار سول کپڑوں میں راولاکوٹ کے ایک نوجوان محمد نعمان (جس کے خلاف مبینہ طور پر مالی فراڈ) کی آیف آئی آر موجود ہے ، کو گرفتار کرنے راولاکوٹ پہنچے، ایف آئی اہلکاروں نے اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کو اعتماد میں لینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

صحافی خواجہ کاشف میر کے مطابق نعمان کے خلاف دی گئی درخواست کے مطابق اس  نے گوجر خان کی ایک فیملی کیساتھ 27 لاکھ روپے کا فراڈ کیا ہوا ہے۔

یہ دستاویزات چونکہ ایک سال پرانی ہیں اس لیے کیس کے  بارے میں رائے دینامناسب نہیں ، تاہم ایف آئی اے کواس درخواست پر قانونی و اخلاقی تقاضے پورے کرتے ہوئے تحقیقات ضرور کرنی چائیے اور ملزم اگر واقعی مجرم ثابت ہوتا ہے تو اس کو سزا بھی ہونی چاہیئے لیکن جس بے ڈہنگے طریقے سے ایف آئی اے اہلکاروں نے ایک الگ ریاست میں مقامی پولیس و انتظامیہ کو مطلع کیے بغیر خود ہی کاروائی کرنی چاہی اس سے ابہام بھی پیدا ہوا۔ ایف آئی اے کی بھی بدنامی ہوئی اور شہریوں کی طرف سے اہلکاروں کو مار الگ سے پڑی۔

گزشتہ روز ہوا کیا تھا؟
آج صبح آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں چار افراد نے ایک نوجوان کو اغوا کرنے کی کوشش کی تو اس
کے شور مچانے پر لوگ جمع ہوئے اور ان چاروں افراد کو دھر لیا اور تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا.

جب مشتعل شہری اُن چار افراد پر تشدد کر رہے تھے تو انہوں نے خود کو ایف آئی اے کے اہلکار بتایا اور اپنے کارڈز بھی دکھائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد کی ایک عدالت کے حکم پر ملزم کو پکڑنے آئے تھے لیکن وہ کوئی عدالتی حکم نامہ پیش نہ کر سکے۔

وہ نا معلوم افراد جنھیں اغواء کی ناکام کوشش کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا
وہ نا معلوم افراد جنھیں اغواء کی ناکام کوشش کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا

بعد ازاں جب مقامی پولیس موقع پر پہنچی تو ان میں سے ایک نے پولیس سے کہا کہ ہم ایک خفیہ ایجنسی کے لوگ ہیں اور پولیس سے مدد طلب کی، پولیس نے چاروں افراد کو مشتعل ہجوم سے نکالا اور اپنی وین میں ڈال کر راولاکوٹ تھانے لے گئے۔

عینی شاہد کا کہنا ہے کہ وہ چار افراد ایک سفید ڈبل کیبن پِک اَپ میں آئے تھے جس پر اسلام آباد کی نمبر پلیٹ تھی جس کا ریکارڈ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود نہیں ہے۔گاڑی میں وائر لیس فون بھی نصب تھا، مشتعل شہریوں نے گاڑی کے شیشے توڑ دیے۔

راولاکوٹ مقامی نوجوان کو اغواء کرنے والے نا معلوم افراد کی گاڑی جسے موقع پر موجود لوگوں نے توڑ نے کی کوشش کی

سیکیورٹی محکموں اور ایف آئی اے کو پتا کرنا چاہیے کہ یہ کون سے گروہ ہیں جو ایف آئی اے اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے نام استعمال کر کے لوگوں پر چھاپے مار رہے ہیں اور انہیں اغوا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔