“میر کو کیوں نہ مغتم جانے”

تحریر : محمد تہامی بشرعلوی

6 دسمبر 2018 ء کے روز یہ موقع پھر پیدا ہوا کہ سردار عتیق احمد خان صاحب سے ملاقات کی راہ نکل آئی ۔ اب کی بار میرے ہمراہ رفیقِ مکرم ایڈووکیٹ مصباح المصطفیٰ صاحب بھی تھے۔ سردار صاحب کی شخصیت کا رچاؤ اور علم دوستی یہ تقاضہ پیدا کر دیتی کہ ان کی مجلس میں جانے کی راہ نکالی جاتی رہا کرے۔بڑی شخصیات میں علم و اخلاق کا جو تناسب بہ ہر حال ہونا ہی چاہیے ، سردار صاحب کی شخصیت میں اسے متجسم دیکھا جا سکتا ہے۔آج کی نشست میں بھی سردار صاحب کی یادداشتوں سے اپنی دل چسپی کے امور پر اہم معلومات حاصل ہوتی رہیں۔رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس، غازیِ ملت سردار ابراہیم ، مجاہد اول سردار عبدالقیوم ، شیخ عبداللہ ، ذوالفقار علی بھٹو، قائدِ اعظم ،پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، مولانا آزاد، غلام نبی گل کارہ سمیت برصغیر کی اہم سیاسی شخصیات کا تذکرہ ہوا۔کشمیری سیاست کے بڑے ناموں : مجاہد اول ، غازی ملت ،رئیس الاحرار اور شیخ عبداللہ سے وابسطہ اہم یادداشتیں سننے کو ملی۔سردار صاحب نے مجاہدِ اول کی مطالعاتی و تصنیفی زندگی کا احوال بھی سنایا۔تصوف سے ان کے لگاؤ کی داستان سنائی۔ مجاہدِ اول کی جہد و عزم سے بھرپور زندگی کا نقشہ ہمارے سامنے رکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجاہدِ اول کے فیضِ تربیت کا سب سے حسین مظہر خود سردار عتیق احمد خان کی وجیہ شخصیت کی صورت میں ہوا ہے۔ یہی فیض تربیت جب ان کی صلاحتیوں سے ملا تو خطہ بھر میں انھیں امتیازی شخصیت کا حامل بنا دیا. مجھے یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ ،سیاسی مشاغل سے بھرپور زندگی کے باوجود، اُن کے لائق فرزند نے اپنے عظیم والد کے سرمایائے فکر و عمل کو قومی امانت سمجھتے ہوئےتاریخ کے ریکارڈ میں لانے کی قابلِ قدر سعی کی ہے۔مجاہدِ اول کی تصنیفات و تالیفات کی طباعت کا اہتمام، جس انہماک سے انھوں نے کیا ، اس پر وہ اور ان کا شعبہ تصنیف و تالیف ، ہم سب کے شکریے کا مستحق ہے۔سردار صاحب نے بتایا کہ وہ اب موضوعات کی ترتیب سے مجاہدِ اول کے تصنیفی کام کو سامنے لانے کے عزم کو عملی جامہ پہنارہے ہیں۔ مجاہدِ اول کے تمام لیکچرز، خطابات اور انٹرویوز کا سلسلہ بھی زیرِ طباعت ہے۔ دورانِ گفتگو سردار صاحب نے کہا کہ ” بڑی شخصیات کے ساتھ یہ المیہ رہا ہے کہ اپنی زندگی میں ان کو کم ہی پہچانا گیا”۔ ممکن نہیں کہ مختلف موضوعات پر ہونے والی یہ دل نشین گفتگو تحریر میں ڈھالی جا سکے۔ سردار صاحب کو خداوند سلامت رکھے کہ ہمیشہ محبت و شفقت کا معاملہ روا رکھتے ہیں ۔ ان کی سخصیت کا یہی حسن ہمیں مجبور رکهتا ہے کہ ان سے مودت کا رشتہ استوار رکھا جائے. اس پر بھی سردار صاحب کا دلی شکریہ کہ مجاہدِ اول کی نئی شائع ہونے والی نو کتب کا خوب صورت سیٹ تحفے میں عنایت کیا۔
؎ “میر کو کیوں نہ مغتم جانے
اگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ”

فی الحال تو ملنے والی کتب کی فہرست ہی ملاحظہ ہو، تعارف و تبصرہ کسی مستقل نشست میں۔( ان شاء اللہ)۔
1۔ کشمیر بنے گا پاکستان
2۔مقدمہ کشمیر
3۔مقدمہ کشمیر (آپ کی عدالت میں )
4۔نظریاتی کشمکش
5۔اچھی حکمرانی
6۔اللہ تعالیٰ فضل
7۔مردِ کوہستانی
8.The Kashmir Problem.
9.The Kashmir Case.