آئی ایم سائنسز پشاور میں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر : محمد تہامی بشرعلوی
یہ 22 نومبر کا دن تھا کہ میں آئی ایم سائنسز پشاور کے طلبہ و طالبات کی محفل میں تھا۔ گرامی قدر اساتذہ کے شریکِ بزم ہو جانے سے نشست بہت پُر رونق ہو چکی تھی۔یہ اتنا نفیس موقع پیدا کرلینے میں، قدرت نے ، برادرم سکندرتنگی کا حسنِ تخیل بروئے کارلایا تھا۔ پشاور جانے کی تمنا تو تھی ہی ، مگر یہ امید نہ تھی کی وہاں جانا اس سطح کے خوش گوار لمحوں میں ڈھل پائے گا۔

پشاور کی دھرتی پر قائم اس دل کش درسگاہ میں قدم رکھتے ہی جو نگاہ اٹھا کر دیکھا تو درودیوار کو حسنِ تعمیر کا گواہ پایا۔ پختون طلبہ و طالبات کی چہل پہل سے کھلا کہ بے جا روایات پر استوار گھٹن ، ان کی اداؤں سے رخصت ہوئی بیٹھی ہے۔ مجھے سوشل سائنسز کے طلبہ و طالبات سے “دین اور فہمِ دین” کے عنوان پر گفتگو کرنی تھی۔میں جن خیالوں میں جیتا ہوں ان میں کا ایک یہ ہے کہ دین کے مندرجات کو فہمِ دین کی روداد سے الگ رکھ کر ہی دیکھا جایا کرے۔ “فہمِ دین” جب “عین دین” کی جگہ لے لیتا ہے تو ،فہم کی ہر قباحت کی قیمت بھی دین کو ہی چکانی پڑجاتی۔ دین کی شان میں سے یہ ہے کہ اک مسلمان کو اسے مِن و عن قبول کرنا ہوتا ہے، جبکہ کسی فہم ِ دین کی کہانی یہ ہے کہ وہ یوں واجب الاتباع نہیں ہوتا۔ دین ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتے جبکہ فہم کا معاملہ اس کے سوا ہے۔ کئی دین کے ماننے والے ایسے ہوں گے جنھیں امام ابوحنیفہ ؒ کے فہمِ دین سے اختلاف ہو گا اور کئی ایسے سچے مسلمان بھی ہوں گے جو امام مالکؒ کے فہمِ دین کو رد کرتے ہوں گے۔ دین کا دائرہ فہمِ دین سے وسیع ہے کہ کسی ایک فہم کو نہ ماننے والا بہ ہرحال دین کو ماننے والا ہی سمجھاجاتا ہے۔میں اس خیال کی ضروری تفصیلات طلبہ و طالبات کی دماغی دسترس میں دینے کی کاوش کر رہا تھا۔گفتگو کے اختتام پر طلبہ و طالبات کے سلسلہ ِاستفسارات نے اطمینان دلایا کہ گھنٹہ بھر کی وہ کاوش رائگاں نہ رہی۔ طلبہ و طالبات کا ذوق متقاضی تھا کہ اس نوعیت کی مزید نشستیں بھی جمائی جا سکیں۔ ہم ایسا ہر عزم وعدہِ فردا کی نوک پر لٹکا آئے ہیں.

اب دیکھیے، کب خدا کو کیا کیسے منظور ہو پاتا ہے۔ تقریب کی انتظامیہ کا بے حد شکریہ کہ ایسے موقع کی ہر واجب تصویر برمحل بنا کر سائٹ پر بھی تانک دی۔ ان گرامی قدر اساتذہ کا ممنون ہوں، جن کی شرکت سے مجلس کے وقار میں اضافہ ہوا۔ میزبان دوست پروفیسر سکندرتنگی اور جناب مولانا حسن کا بہ طورِ خاص شکریہ۔اپنی ان طالبات کا شکریہ ادا کرنا بھی مجھ پر واجب ہے جو نشست کے اختتام پرمجھے اہم کتب کا تحفہ عنایت کر گئیں۔ طلبہ و طالبات کا شعور و اخلاق گواہ تھا کہ انھیں سر سکندر ایسے اچھے اورقابل اساتذہ کی تربیت میسر ہے۔ دینی مباحث سے اُن کی دلچسپی میرے لئے بہ طور خاص باعثِ مسرت تھی۔ سردست تو ممکن نہیں کہ نشست کی اہم تفصیلات قارئین کی نذر کی جا سکیں۔ دعا گو ہوں کہ خداونداس ادارے کے فیض کو نسلوں تک بڑھائے۔ اس ادارے کو پروفیسر سکندر ایسے خوش خیال اساتذہ میسر رہیں، جن کی رہنمائی میں نئی نسل کامیابی سے اپنی مستقبل گری کر سکے۔ان اہم گھڑیوں کی یادداشت کے طور پر چند تصاویر بھی آپ کے روبرو دھر دی ہیں سو ملاحظہ فرمائیے۔
(5 دسمبر 2018)