دبئی کن لوگوں کو شہریت دے رہا ہے؟

دبئی (ویب ڈیسک )خلیجی ملک متحدہ عرب امارات میں حکام نے نئی قانونی اصلاحات کا اعلان کیا ہے جن کے تحت اب غیر ملکی افراد کو بھی اماراتی شہریت مل سکے گی۔متحدہ عرب امارات میں لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن آباد ہیں جو اپنے ہنر کی بنا پر یہاں نوکریاں یا کاروبار کر رہے ہیں۔ تاہم غیر ملکی شہریوں کے لیے مستقل رہائش یا شہریت ملنے کا کوئی راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کو اپنی نوکریاں یا کاروبار ختم ہونے کی صورت میں اپنے ملک لوٹنا پڑتا ہے۔

لیکن اب متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اعلان کیا کہ سرمایہ کار، خاص ہنر رکھنے والے افراد اور پیشہ ور لوگوں کو اماراتی شہریت دی جا سکے گی۔محمد بن راشد المکتوم نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں ‘سائنسدان، ڈاکٹر، انجینیئر، فنکار اور ان کے خاندان شامل ہوں گے۔‘ٹویٹ میں انھوں نے زور دیا ہے کہ یہ سہولت ٹیلنٹ (خاص صلاحیت) رکھنے والوں کے لیے ہوگی۔’اس کا مقصد ایسے ہنر والے افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے جو ہمارے ترقی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔’ایک الگ ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو اماراتی شہریت کے لیے اہل ہوں گے انھیں ملک کی کابینہ، مقامی عدالتیں اور ایگزیکٹو کونسل نامزد کریں گی۔

‘قانون کے تحت اماراتی پاسپورٹ حاصل کرنے والے افراد اپنی موجودہ شہریت بھی رکھ سکیں گے۔’اس کا مطلب ہے کہ متحدہ عرب امارات کی شہریت حاصل کرنے کے لیے پُرانی شہریت چھوڑنے کی شرط نہیں رکھی گئی۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر کے ٹویٹ کے ردعمل میں بہت سے لوگ اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔کچھ لوگ تو صرف یہ لکھ کر ری ٹویٹ کر رہے ہیں کہ ’میں اماراتی شہریت کے لیے فوراً درخواست دینے والا ہوں۔‘ٹوئٹر صارف جونو ہیسم نے لکھا کہ یہ ’بہترین خبر ہے۔ ہنر والے افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور جگہ دینے سے معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔‘سوشل میڈیا پر بعض افراد کے مطابق یہ فیصلہ ’گیم چینجر‘ ہوسکتا ہے۔ لیکن فراح فورچون نامی صارف نے پوچھا کہ ’کیا یہ محض پبلیسسٹ (یعنی تشہیر کرنے والے) ہونا بھی ٹیلنٹ ہے؟ کیونکہ میں یہاں جانے کے لیے تیار ہوں۔‘فراح کی طرح سیم نامی ایک صارف بھی اماراتی شہریت حاصل کرنے کے لیے کافی پُرامید دکھائی دیے۔ انھوں نے ایک ری ٹویٹ میں لکھا ’ہیلو سر۔ آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟ پلیز سر۔‘اسی طرح کئی لوگ سوشل میڈیا پر اس خبر کو شیئر کر رہے ہیں۔ اس دوران کئی لوگ یہ سوال بھی پوچھتے نظر آئے کہ آیا ان کا پیشہ ’ٹیلنٹ‘ مانا جائے گا یا نہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2019 میں خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے طویل مدتی ویزا سکیم کے تحت دس سالہ رہائشی کارڈ ’گولڈن ویزا‘ کا اعلان کیا تھا۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بتایا تھا کہ: ‘ہم نے سرمایہ کاروں، انتہائی قابل ڈاکٹروں، انجینئروں، سائنسدانوں اور فنکاروں کو مستقل رہائش دینے کے لئے گولڈن کارڈ اسکیم لانچ کیا ہے۔’اس ٹویٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ ‘اس کے تحت مجموعی طور پر 100 ارب درہم تک کی مالیت کی سرمایہ کاری کرنے والے 6800 سرمایہ کاروں کو پہلے دور میں ‘گولڈن کارڈ’ جاری کیا جائے گا’ جن کا تعلق 70 ممالک سے ہوگا۔

ماہرین کے مطابق گولڈن کارڈ کا مقصد متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کرنے والوں، بین الاقوامی اہمیت کی بڑی کمپنیون کے مالکان، اہم شعبے کے پیشہ وروں، سائنس کے میدان میں کام کرنے والوں محققوں اور باصلاحیت طلبہ کو متحدہ عرب امارات کی ترقی میں شامل اور متوجہ کرنا تھا۔