کے ٹو کی چوٹیوں میں‌کھوجانے والے کوہ پیما علی سد پارہ اور ان کی ٹیم کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری

گلگت (ویب ڈیسک) دنیا کی دوسری مشہور چوٹی کے ٹو سر کرنے والے تینوں کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کے غیر ملکی ساتھی لاپتا ہو گئے ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ 22 کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کرنے کی مہم شروع کی تھی لیکن 19 اس میں ناکام رہے البتہ 3 کوہ پیماؤں نے جمعہ کو 8ہزار 711 کلومیٹر بلند دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرلی۔

ان تینوں نے یہ منفرد کارنامہ موسم سرما میں انجام دیا اور یہ محض دوسری ٹیم ہے جس نے سرد موسم میں کے ٹو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے، اس سے قبل نیپالی کوہ پیماؤں نے گزشتہ ماہ موسم سرما میں کے ٹو سر کی تھی۔

محمد علی سدپارہ، ان کے بیٹے ساجد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے کوہ پیما جان سنوری اور چلی کے ایم پی موہر نے آرام کیے بغیر کیمپ 3 سے جمعرات اور جمعہ کی درمیان شب رات 12 بجے کے ٹو سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔اس مہم کے بقیہ 19 افراد نے مہم سر نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں رکنے کے بعد اگلے دن جمعہ کی صبح نیچے آ گئے۔

علی سد پارہ اور ان کی ٹیم کا جمعہ کی شام سے بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہے۔ جس کے بعد گزشتہ روز آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سات ہزار میٹر کی بلندی تک لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ جس میں خراب موسم اور تیز ہواؤں کے سبب مشکلات پیش آئیں۔

کے ٹو کے بیس کیمپ میں موجود ‘سیون سمٹ انٹرنیشنل ایکسپیڈیشن’ کے سربراہ چنگ داوا شرپا جو کہ خود بیس کیمپ پر موجود ہیں، کا ایک ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ ، علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جوان پابلو موہر کی تلاش میں اتوار کو پھر ہیلی کاپٹرز دوبارہ سے سرچ آپریشن شروع کریں گے۔

جان اسنوری کے آفیشل پیج سے بتایا گیا کہ تینوں کوہ پیما 8ہزار 300 میٹر پر تنگ جگہ سے نکل کر آگے بڑھ چکے ہیں جو سب سے خطرناک مقام ہے اور خیریت سے ہیں لیکن ہفتے کو ان کی کوئی اپ ڈیٹ موصول نہیں ہوئی۔

کوہ پیماؤں کا جمعہ کی شام کے ٹو سر کرنے کا ارادہ تھا اور انہوں نے جمعہ کی رات کیمپ 4 پر قیام کیا تھا لیکن آج (ہفتے کی) دوپہر 12 بجے تک ٹیم کی کوئی بھی اپ ڈیٹ موصول نہیں ہوئی۔کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق دن 11 بجے پاکستان آرمی کے دو ہیلی کاپٹروں نے تینوں لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے۔

ادھر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیماؤں کی بحفاظت واپسی کے لیے قوم سے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ علی سدپارہ بہادر اور جرات مند کوہ پیما ہیں جس نے پوری دنیا میں ملک کا نام روشن کیا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تلاش کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ محمد علی سدپارہ پاکستان کے قابل فخر ہیرو ہیں، انہوں نے مہم جوئی سے قبل مجھ سے ملاقات کرکے موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔