زلزلے کیوں آتے ہیں

تحریر :رانا محمد الیاس

قرب قیامت میں عموماً زلزلوں کاکثرت سے انا أیک یقینی بات ھے۔ کیونکہ نبی کریم کی بہت سی احادیث مبارکہ اس سلسلے میں کتب احادیث میں وارد ہوئی ھیںِ، البتہ ہم جس سر زمین میں رہتے ہیں ، یہ مشرق کی سر زمین کہلاتی ھے۔اس کے بارے میں حضور پاک نے خصوصی طور پر پیشین گوئی کی ھے۔چناچہ امام بخاری نے اپنی”صحیح البخاری” جلد اول جلد دوم میں حضرت عبدالله بن عمر سے ایک ہی مضمون کی دو احادیث نقل فرمائی ہیں؛ پہلی جلد کے ابواب الاستسقاء میں اور جلد ثانی کے ابواب الفتن صحفہ ۱۰ ۵۰ میں جن کا مہفوم کچھ یوں ھےکہ”ایک مرتبہ حضورﷺ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطافرما، اے الله ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، لوگوں نے کہا ہمارے مجد میں بھی، لیکن حضورﷺ نے دوبارہ بھی یہی دعا فرمائی، لوگوں نے دوبارہ مجد کاکہا تو حضورﷺ نے کہا، وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے، اور وہاں سے ہی شیطان کا سینگ یعنی گروہ طلوع ہو گا۔

اس پر بخاری شریف کے محشی محدث العصر حضرت مولانا سہارنپوری نے بین اسطور میں وضاحت فرمائی ھے کہ “مجد کی زمین بھی مشرق سے تعلق رکھتی ہے ۔امام بخاری نے باب کے عنوان “باب قول النبی صلی الله من قبل المشرق”حضور ﷺ کا قول ھے کہ فتنہ مشرق کی جانب سے ہو گا میں جو مشرق کا لفظ استعمال فرمایاھے اس کی مطابقت لفظ مجد سے ہی ہوتی ھے۔
اگر ہم غور کریں تو ہر فتنہ مشرق سے ہی ہوتاھے۔

بے حیائی عروج پر ہے۔زلزلے تو ھوں گے ۔سرعام فحش گوئی اور برے کام ہو رھے ھیں، ضمیر تو کب کے مر چکے ہیں ۔ھم عبادت بھی کرتے ھیں تو دکھاوے کی پردہ کی کوئی اہمیت نہیں رہی،نا والدین کو کوئی عزت و احترام دیا جا رھا ھے۔زلزلے تو ہوں گے۔ھمیں اس لیے چھوٹ دی گئی ہم اس نبی صلی الله والیہ وسلم کے امتی ھیں جہنوں نے صرف امت کے لیے دعا فرمائی ،جو امت کے لیے روتے رھے۔وہی امت أج گناہوں میں ڈوب چکی ھے۔أج بھی وقت ھے ہم سب توبہ و استغفار کریں ہمارا رب غفور رحیم ہے معاف کرنے والا ہے۔اس سے پہلے کہ معافی کے دروازے بند ہو جائیں ہمیں اللہ کے حضور گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے ۔