شہر پلندری پر پیشہ ور بھکاریوں‌کا راج اور انتظامیہ کی مکمل ناکامی

پلندری (عبدالرحمان خان)رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان کے مختلف شہروں سے پیشہ ور بھکاریوں نے سدھنوتی سمیت آزاد کشمیر کے مختلف شہروں کا رخ کیا ہے، حالانکہ پاکستان کی طرح ریاست بھر میں‌بھی بھیک مانگنا غیرقانونی ہے۔ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ان پیشہ وَرْ بھکاریوں کے منظم گروہ ہیں جن میں بچے، مرد، عورتیں اور بوڑھے شامل ہیں. اِن کے اپنے اپنے عَلاقے اور اڈّے ہیں جہاں کوئی اور بھیک نہیں مانگ سکتے. ان کو باقاعدہ بھیک مانگنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں اور باقاعدہ تربیت دے کر بھیجے جاتے ہیں.

یہ پیشہ وَرْ بھکاری مختلف غیر قانونی کاموں مثلاً منشیات فروشی، اغواء برائے تاوان کے آلہ کار، چوری چکاری ، بے پردگی،جسم فروشی اور بےحیائی میں بھی ملوث ہوتے ہیں.

کے ٹی وی کی اس بارے میں تفصیلی خبر یہاں‌پر ملاحظہ کریں. سدھنوتی : رمضان المبارک میں پیشہ ور بھکاریوں کی یلغار انتظامیہ خاموش تماشائی

کے ٹی وی نیٹ ورک گذشتہ تین ماہ سے مسلسل مقامی انتظامیہ کا نشان دہی کروا رہا ہے لیکن انتظامیہ اس معاملے میں‌سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے.

گذشتہ روز ڈپٹی کمشنر سردار طاہر نے ایس پی سدھنوتی کو ہدایات جاری کی کہ ایسے پیشہ ور لوگوں کے خلاف سختی کی جائے لیکن اس کے باوجود شہر پلندری پر پیشہ ور بھکاریوں کی یلغار جاری ہے.
اس بارے میں خبر یہاں‌پڑھیں سدھنوتی : رمضان المبارک میں پیشہ ور بھکاریوں کی یلغار انتظامیہ خاموش تماشائی

باوجود واضح احکامات ، آج شہر بھر میں درجنوں بھکاری گھومتے رہے کرونا کی اس مہلک وبا میں پنچاب سے داخل ہونے والے پیشہ ور بھکاریوں کا مسلسل آنا جانا ریاستی اداروں کیلے سوالیہ نشان ہے.