کرونا کی تیسری لہر،ریاست بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند لیکن کیڈٹ کالج پلندری و مظفرآباد اس پابندی سے مستثنیٰ کیوں؟

‎ کرونا کی تیسری لہر کی شدت کے بعدریاستی حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کو 11 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں اب اس عالمی وباء‌کی وجہ سے مئی تک توسیع کر دی گئی ہے. اس کے ساتھ ساتھ حکومت وقت نے سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں تبدیلی کر دی ہے اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں تبدیلی کرتے ہوئے ہفتہ اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن لگا رکھا ہے. شادی بیاہ اور ہر طرح تقریبات پر بھی مکمل پابندی ہے اور ریاست بھر میں‌کھیلوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے سیاسی اجتماعات پر بھی پابندی برقرار ہے. اس کے ساتھ ساتھ ضلع پونچھ کی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت بھی مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے.

اس وباء سے پرائیوٹ تعلیمی ادارے سب سے زیادہ متاثر ہیں جو پچھلے ایک سال سے لاک ڈاؤن  کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں اور چونکہ ان تعلیمی اداروں کے اخراجات بچوں کی فیسوں سے پورے ہوتے تھے لیکن سال بھر کے لاک ڈاؤن نے ان کے بجٹ بر برے اثرات مرتب کئے ہیں لیکن اس کے باوجود ریاستی قوانین کے احترام میں ان اداروں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے سکول و کالجز بند رکھے ہوئے ہیں.

لیکن اسی ریاست کے اند ر آزاد کشمیر کے دو شاندار تعلیمی ادارے کیڈٹ کالج مظفرآباد اور کیڈٹ کالج پلندری، جہاں سیکنڑوں طلباء کالج میں موجود ہیں، لاک ڈاؤن سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں .

‎پرائیوٹ سکولز و کالجز کے نمائندگان نے ایک ہی ریاست میں دو قوانین پر ر سخت حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے ایک ہی ریاست کے اندر دو قوانین نافذ العمل ہوں جہاں پر طاقتور کیلئے قانون الگ اور غریب کیلئے قانون الگ ہو.

سدھنوتی پرائیوٹ سکولز و کالجزکے صدر ثاقب خورشید نعمان فاروق محبوب حسین و دیگر نے کے ٹی وی کے نمائندہ سے گفتگو میں کہا کے کیڈٹ کالج کو کس قانون کے تحت تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے؟ ضلعی انتظامیہ اگر یہ امتیازی سلوک کرے گئی تو پھر قانون کے احترام کی توقع نہیں کی جاسکتی.

نعمان فاروق نے مزید کہا ہے کہ کیا یہ انصاف ہے کہ ریاست میں کیڈٹ کالج کو سپیشل ریلیف حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دیں اور ہمارے بچے تعلیم سے محروم رہیں؟

پرائیوٹ سکولز اینڈ کالجز کے نمائندگان کے مطابق اگر ضلعی انتظامیہ نے کیڈٹ کالج کے خلاف ایکشن نا لیا تو ہم بھی کل سے تعلیمی ادارے کھولیں‌گئے.