آمرانہ نظریات کی مالک حکومتوں‌کا آزاد میڈیا کو دبانے کی کوششوں‌میں اضافہ

بین الاقوامی پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے خبردار کیا ہے کہ آمرانہ سوچ کی حامل حکومتوں کا آزاد میڈیا کو دبانے کی کوششوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 3 مئی کو ‘عالمی یوم آزادی’ منانے سے قبل آئی پی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی پی آئی کووڈ 19 پرس فریڈم ٹریکر کا حوالہ دے کر کہا کہ دنیا بھرمیں پریس فریڈم کی 635 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں کورونا کی وبا سے لڑرہا ہےجہاں سب سے زیادہ 84 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

آئی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر باربرا ٹرونفی نے کہا کہ پریس کی آزادی پر کھلے عام حملوں میں اضافہ اور دنیا بھر میں آمرانہ اور غیر فکری سوچ رکھنے والی حکومتوں میں صحافیوں کو نشانہ بنانا جمہوری آزادیوں کے مستقبل کے لیے ایک بد شگون علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں بھی ہم نظر آتے ہیں پریس کی آزادی پر حملہ ہورہا ہے، حملوں کی حکمت عملی اور طریقوں کو دیگر حکومتیں اپنا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جمہوری مخالف حکومتوں میں تیزی سے یہ احساس پیدا ہورہا ہےکہ وہ میڈیا کو معافی کے ساتھ خاموش کرسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان میں سے 43 کو ان کے کام کی وجہ سے قتل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلح تنازع کی کوریج کی دوران 3 صحافی مارے گئے اور شہری بدامنی کی رپورٹنگ کے دوران ایک ہلاک ہوا جبکہ اسائنمنٹ کے دوران 2 صحافی مارے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان میں 7 صحافیوں اپنی زندگی سے محروم ہوئے جو ٹارگٹ کلنگ کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

میکسیکو میں منشیات کے کارٹلوں اور منظم جرائم کے بارے رپورٹس کی وجہ سے 6 صحافی ٹارگٹ حملوں میں مارے گئے۔ دنیا بھر میں صحافیوں کے قاتلوں کو استثنیٰ ملنا معمول کی بات ہے لیکن صحافی کے قتل کے ماسٹر مائنڈ کو کبھی انصاف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں‌صحافت ایک غیر محفوظ‌پیشہ تصور کیاجا رہا ہے. ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں میڈیا کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے سلسلے میں صحافیوں کو مسلسل دھمکایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں صحافت کو کنٹرول کرنے کی غرض سے سینسرشپ کے مختلف طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں جن میں صحافیوں کا قتل، انہیں دھمکیاں دینا اور ہراساں کرنا شامل ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں میں کوئی بھی جگہ صحافیوں کے لیے محفوظ نہیں ہے – صحافیوں پر حملے ہر جگہ ہو رہے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ریاست اور اس کے اداروں کا ان حملوں کے پیچھے نمایاں کردار ہے۔‘

پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد میں مئی 2019 سے لے کر اپریل 2020 تک صحافیوں اور میڈیا پریکٹیشنرز کے خلاف حملوں اور خلاف ورزیوں کے 91 واقعات درج ہوئے ہیں۔ ان اعدادوشمار کے مطابق ہر ماہ اوسطاً سات واقعات یا ہر چوتھے دن ایک واقعہ یا ہر ہفتے میں دو واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان خلاف ورزیوں میں سات صحافیوں کا قتل، دو کا اغوا، نو کی گرفتاری، 10 پر حملے جن میں سے پانچ شدید حالت میں زخمی ہیں، زبانی دھمکیوں کے 23 واقعات، سینسرشپ کے 10 اور قانونی کارروائیوں کے آٹھ کیس شامل ہیں۔