ہندوستان میں کرونا کی تباہ کاریاں‌جاری، تنزانیہ کے سفارتکار ڈاکٹر موسیس کرونا کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے

بھارت میں کورونا وائرس کے وار اس قدر تیز ہوچکے کہ وہاں اب بھارتی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر مُلکی شہریوں سمیت سفارتکاروں کا رہنا بھی دشوار ہوچکا ہے ایسا ہی ایک ہولناک واقعہ آج بھی ہوا جب تنزانیہ کے سفارت کار کرنل ڈاکٹر موسیس جان کی بازی ہارگئے۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق دہلی کے اسپتال میں زیر علاج تنزایہ کے ڈیفنس ایڈوائزر کرنل ڈاکٹر موسیس 28 اپریل کو کورونا وائرس سے انتقال کرگئے۔ جس پر بھارت میں موجود دیگر سفارتکاروں میں بھی خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور اُن کی جانب سے اپنے ممالک واپس جانے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں, کورونا وبا کے پیش نظر تنزانیہ کے ہائی کمیشن نے سفارت کار کی موت پر اظہار افسوس اور دلی جذبات کے اظہار کے لیے تعزیتی کتاب آئن لائن جاری کی ہے۔

بھارت جہاں کورونا سے یومیہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زیادہ اور نئے کیسز کی تعداد 3 لاکھ 60 لاکھ سے زائد ہے تاہم دو روز قبل یہ تعداد یومیہ چار لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی تھی اب صورتحال یہ ہے کہ تنزانیہ کے بعد اب نیوزی لینڈ اور فلپائن کے ہائی کمشنز بھی آکسیجن کی مدد طلب کرچکے ہیں کیونکہ وہاں پہلی بار کورونا سے کسی غیر ملکی سفارت کی موت واقع ہوئی ہے۔

غیر ملکی سفارت کی کورونا سے ہلاکت پر مودی سرکار کی ناقص کارکردگی بے نقاب ہوگئی ہے، بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بلند بانگ دعوؤں میں کہا تھا کہ وہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا رہے ہیں جبکہ ملک میں موجود سفارتی عملے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں اور ضروری طبی معاونت فراہم کی جارہی ہے تاہم یہ دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے۔

ہولناک کورونا وبا اور مودی سرکار کی ناہلی کے باعث تھائی لینڈ سمیت بعض ممالک نے اپنے سفارتی عملے کو بھارت سے نکالنا شروع کردیا ہے جب کہ دیگر ممالک نے اپنے سفارت کاروں کے لیے سخت ایس اوپیز کا تعین کیا ہے جس پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے۔