فردوس عاشق اعوان کا سونیا صدف کے ساتھ جھگڑے کا معاملہ، کیا افسر شاہی کیلئے ایک پیغام تھا؟

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی سونیا صدف کے ساتھ ناروا سلوک سے متعلق ابھی بھی سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔فردوس عاشق کے حامیوں کا موقف تھا کہ افسر شاہی کے ساتھ اسی انداز میں پیش آنا چاہئے تھا کیونکہ یہ طبقہ خود کو کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھتا ہے۔جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے طرفدار فردوس عاشق اعوان کی طرز تخاطب سے نالاں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی کو بازار میں لوگوں کے سامنے ایک خاتون افسر کے ساتھ اس انداز اور الفاظ میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ادھر کچھ دانند گانِ راز کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقیہ یا حادثاتی نہیں تھا بلکہ ارادتا بیوروکریسی کو دیے جانے والا ایک پیغام تھا جس کے کئی حوالے اور پس منظر میں موجود ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں میں ایک سچی افواہ کافی دنوں سے سرگوشیوں میں موجود ہے کہ آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت بیوروکریسی کے خلاف اہم اقدام کرنے والی ہے۔

اس ضمن میں بیوروکریٹس کی چھان بین کر کے ناموں کی لسٹ میں بھی مرتب کر لی گئی ہیں اور موضوں وقت پر جو جو یقینا زیادہ دور نہیں ہے، انہیں فارغ کرنے کے لیے یا پھر غیر اہم ذمہ داریوں پر بے اختیار کر کے ٹرانسفر کرنے کے لئے کام شروع ہو جائے گا،واضح رہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ناقص اشیا کی فروخت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اے سی سیالکوٹ سے کہا کہ یہ آپ کی اور سٹاف کی ڈیوٹی ہے کہ وہ چیزوں کی کوالٹی چیک کریں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ سستے رمضان بازاروں میں جتنا تھرڈ کلاس پھل فروخت کیلئے رکھا گیا ہے، اسے فوری طور پر یہاں سے اٹھوایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سستے رمضان بازار حکومت نے لگوائے ہیں، اسے لیٹروں لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں دیا جا سکتا۔گورنمنٹ یہاں پر بھی جوابدہ ہے۔جب اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ نے اپنا موقف دینے کی کوشش کی اور کہا کہ ہمارے بندے ہر وقت یہاں موجود رہتے ہیں تو اس پر فردوس عاشق اعوان نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ تنخواہ کس چیز کی لیتی ہیں؟ میں اس چیز کی تنخواہ نہیں لیتی، یہ آپ کا فرض ہے کہ یہاں دیکھیں کہ کیا کچھ غلط ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر فردوس اعوان نے کہا کہ افسر شاہی کی کارستانیاں حکومت بھگت رہی ہے۔ آپ اسسٹنٹ کمشنر ہیں تو عوام کو فیس کریں، چھپ کیوں رہی ہیں۔ اس موقع پر اے سی سونیا صدف غصے سے پنڈال سے باہر نکل گئیں۔واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے اور صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔