وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری مستعفی

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری نے رنگ روڈ انکوائری میں عائد الزامات کے پیش نظر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرے وزیر اعظم نے ہمیشہ کہا ہے کہ اگر کسی فرد کا کسی انکوائری میں صحیح یا غلط نام آتا ہے تو جب تک اس کا نام کلیئر نہ ہو جائے اس وقت تک اسے عوامی عہدے کو چھوڑ دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ رنگ روڈ انکوائری میں عائد الزامات کے پیش نظر جب تک میرا نام ان الزامات اور میڈیا کے مکروہ جھوٹ سے علیحدہ نہیں ہوجاتا، اس وقت تک میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر مثال قائم کرنا چاہتا ہوں۔
اُن کا کہنا تھا کہ میرارنگ روڈاور رئیل اسٹیٹ منصوبوں سےکوئی تعلق نہیں، اس اسکینڈل کی تحقیقات قابل شخصیت کو کرنی چاہیے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نےکہا کہ میں اس معاملے میں شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کی حمایت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اس دوران میں میں پاکستان میں رہوں گا اور وزیراعظم عمران خان کے وژن کے ساتھ رہوں گا۔ زلفی بخاری نے یہ بھی کہاکہ میں نے اپنے ملک کی خدمت کے لیے اپنی اوورسیز لائف چھوڑ دی ہے۔

یاد رہے کہ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ سابق کمشنر کیپٹن (ر) محمود اور معطل ہونے والے لینڈ ایکوزیشن کمشنر وسیم تابش نے سڑک کے لیے زمین کے حصول کی غرض سے غلط طریقہ کار سے 2 ارب 30 کروڑ کا معاوضہ ادا کیا اور اراضی حاصل کرتے ہوئے سنگ جانی کے معروف خاندان کو فائدہ پہنچایا۔

مسلم لیگ (ن) نے رہنما عطا تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان اور زلفی بخاری راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے سے براہِ راست مستفید ہونے والوں میں سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غلام سرور خان اور زلفی بخاری نے منصوبے سے بھاری مالی فوائد اٹھائے کیوں کہ ان کی اراضی منصوبے کے قریب واقع تھی۔