ہندوستان: فقیر کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کے نوٹ برآمد

آپ سڑک کنارے بھکاریوں کو دیکھیں جو روزانہ ہزاروں روپے جھولی میں ڈال کر لے جاتے ہیں مگر اللہ کی ناراضی ان کے ساتھ ایسی ہے کہ وہ اگلے دن دوبارہ بھیک مانگنے اور کسمپرسی کی زندگی جینے کے لیے سڑکوں پر خاک چھان رہے ہوتے ہیں اس سے بڑھ کر انسان کی بدنصیبی اور ذلت کی زندگی اور کیا ہو گی۔

ایک ایسے ہی بدقسمت شخص کی کہانی سامنے آئی ہے جس نے ساری زندگی بھیک مانگ مانگ کر لاکھوں روپے جوڑ لیے مگر انہیں استعمال کیے بغیر کسمپرسی کی حالت میں مر گیا۔

بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں گزشتہ برس مرنے والے فقیر کے گھر سے 10 لاکھ روپے برآمد ہوگئے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں گداگر شرینی واساشری گزشتہ برس طویل علالت کے باعث ہلاک ہوگیا تھا، تریمولا تریوپتی ڈیواستانم (نجی این جی او) نے جب ان کے گھر کی تلاشی لی تو گھر سے 1، 1 ہزار کے نوٹ برآمد ہوئے جن کی مالیت دس لاکھ روپے تھی۔

این جی او کا کہنا ہے کہ گداگر سن 2007 سے اسی گھر میں مقیم تھا جس نے گھر میں اپنی جمع پونجی چھپا رکھی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جس گھر میں فقیر رہائش پذیر تھا وہ این جی او کی جانب سے دیا گیا تھا، جس میں دو فقیر نے دو بکسوں کے اندر ہزار ہزار کے لاکھوں نوٹ چھپا رکھے تھے جن کی مالیت 10 لاکھ روپے (پاکستانی کرنسی میں کم از کم 22 لاکھ) تھی۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ این جی او نے گداگر کے گھر سے برآمد ہونے والی رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرادی۔خیال رہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جس میں فقیر کے گھر سے لاکھوں برآمد ہوئے ہیں، 2019 میں آندھرا پردیش میں مرنے والے بشیر صاحب نامی فقیر کے گھر سے 3 لاکھ روپے سے زائد کی رقم برآمد ہوئی تھی۔