حویلی میں قتل ہونے والی خواتین کا نماز جنازہ ادا کر دیا گیا، انتظامیہ نے 14 افراد کے خلاف مقدمہ درج، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا موقف

راولاکوٹ۔کمشنر پونچھ ڈویژن مسعودالرحمان اور ڈی آئی جی پونچھ ریجن سردار راشد نعیم نے حویلی میں مبینہ طور پر قتل ہونے والی خواتین مسماة شریفہ بی بی زوجہ صدیق اور مسماة زاھدہ بی بی دخترمحمد صدیق کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور مقتولین کے لواحقین سے تعزیت کی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حویلی اشفاق گیلانی ، ایس ایس حویلی مرزا شوکت اور پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی

لواحقین کو سماعت کرنے کے بعد کمشنر پونچھ ڈویثرن اور ڈی آئی جی پونچھ ریجن نے ضلع حویلی کے عمائدین سے مختلف مقامات پر ملاقات کی’ آئی جی پولیس آزادکشمیر خود بھی کیس کی نگرانی کر رہے ہیں اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر مسعود الرحمن اور ڈی آئی جی سردار راشد نعیم نے کہا کہ مقتولین کے وارث محمد صدیق کی مدعیت میں تھانہ کہوٹہ میں زیر دفعہ 34\302آزاد پینل کوڈ چودہ نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا ہے اور پولیس فوری ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہمہ گیر کوششوں میں مصروف ہے. انہوں نے لواحقین کو یقین دلایا کہ مقدمہ کی سریعی اور شفاف تحقیقات کے لیے تما تر فنی وسائل اور تحقیقی مہارت کو بروے کار لایا جائے گا اور ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گامتاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنا اور جرم کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دلانا ریاست کی ذمہ داری ہے جسے ہر صورت میں پورا کیا جائے گا اس موقع پر ہر دو افیسران نے عوام ضلع حویلی سے اپیل کی کہ وہ صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور قانون کے تحت تفتیش کے عمل میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں انہوں نے واضع کیا کہ کسی بھی شخص کو شخص کو قانون ہاتھ میں لینے اور علاقے کا امن برباد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، آئی جی پولیس آزادکشمیر خود بھی کیس کی نگرانی کر رہے ہیں

یاد رہے کہ گذشتہ روز دو خواتین کو بے رحمی سے قتل کر کے لٹکا دیا گیا تھا ابھی تک ان خواتین کے قتل کی باضابطہ وجہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سامنے نہیں آئی البتہ اس واقعہ کو کسی رشتہ کا تنازعہ بتایا جاتا ہے. مزید تفصیلات کے مطابق حویلی کے نواحی علاقے گگڈار زیارت موڑ سے ایک گھر میں مبینہ طور پر ماں اور بیٹی کی پھندہ لگی لاشیں ملیں تھیں، جس کے بعد علاقے کے حالات کشیدہ ہو چکے ہیں ۔جن خواتین کی لاشیں ملی تھیں ان کے قبیلے نے ایک دوسرے قبیلے پر ان خواتین کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا تھا. لواحقین کا موقف تھا کہ کچھ عرصہ قبل ان کی فیملی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے دوسرے قبیلے کی لڑکی کیساتھ گھر والوں کی منشا حاصل کیے بنا شادی کر لی تھی جس کا بدلہ لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس واقعہ کو رپورٹ‌کرنے والے صحافی پر وحشی قاتلوں نے حملہ کیا اور کیمرہ بھی توڑ دیا۔ بعد ازاں صحافی نے پریس کلب میں چھپ کر اپنی جان بچائی تھی۔

اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری جنرل راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ حویلی میں دو بیگناہ خواتین کی موت کے حوالہ سے میں کل بھی اپنا موقف پیش کرچکا ہوں اس واقعہ پر مجھے ,میرے خاندان,قبیلے اور کارکنان سیمت سب کو شدید دکھ ہے اور لواحقین سے ہمدردی ہے میں سمجھتا ہوں یہ میری اپنی ماں اور بہن کا قتل ہےبعض احباب نے سوشل میڈیا پر میرے جنازہ میں شرکت نہ کرنے پر سوال اٹھایا ہے تو میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں کل سے باغ میں ہوں اور انتظامیہ کی درخواست پر جنازہ میں شرکت کرنے کا فیصلہ تبدیل کیا میں لواحقین کے گھر بھی جاوں گا اور انکو انصاف کی فراہمی تک ان کے ساتھ کھڑا بھی رہوں گامیں نے کمشنر اور ڈی ائی جی سے بھی کہا ہیکہ صاف شفاف تحقیقات کرکے قاتلوں کو عبرت ناک سزا دی جاے اور کسی بیگناہ پر ظلم بھی نہ کیا جائےمیں نفرت اور شر پسندی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتاجنازہ کے اجتماع میں وزیر حکومت چوہدری محمد عزیز کے قتل پر افسوس اور لواحقین سے ہمدردی کے جملوں کے علاوہ باقی تقریر پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے چونکہ سیاست دان ہی معاشرے کی سمت کا تعین کرتے ہیں اور ترقی یا تنزلی کی طرف لے جاتے ہیں اچھے برے لوگ ہر قبیلہ برادری میں ہو سکتے ہیں بے گناہ خواتین کے قتل کو قبیلوں اور برادریوں کا رنگ دیکر سیاست کی نظرکرنا کسی طرح بھی