حامد میر کی معافی کی مشروط پیش کش

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے آف ایئر ہونے والے صحافی حامد میر نے معافی مانگنے کی مشروط پیش کش کی ہے۔

حامد میر نے منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں اشارتاً کہا ہے کہ “اگر وہ صحافی اسد طور پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیں تو میں معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔”

حامد میر نے اپنے ٹوئٹ میں لفظ ‘وہ’ کا استعمال کیا جس کے بعد ایک مرتبہ پھر بات ہو رہی ہے کہ ان کا اشارہ کس کی جانب ہے۔

حامد میر کی جمعے کو سیکیورٹی اداروں سے متعلق اشاروں کنایوں میں کی جانے والی ایک تقریر کے بعد انہیں جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام ‘کیپٹل ٹاک’ کی میزبانی سے روک دیا گیا تھا۔

جیو نیوز سے پیر کی شب آٹھ بجے نشر ہونے والے پروگرام ‘کیپٹل ٹاک’ کی میزبانی حامد میر کی جگہ مارننگ شو کے میزبان عبداللہ سلطان نے کی۔ تاہم، انہوں نے اس پروگرام میں حامد میر کے آف ایئر ہونے کے معاملے کا ذکر نہیں کیا۔​

البتہ دیگر نجی ٹی وی چینلز سے وابستہ صحافیوں نے پرائم ٹائم کے دوران اپنے پروگرامز میں حامد میر کو آف ایئر کیے جانے کے معاملے کو اٹھایا۔

حامد میر کو کیوں آف ایئر کیا گیا؟
حامد میر کو چینل انتظامیہ کی جانب سے آف ایئر کرنے کا معاملہ ان کی ایک تقریر کے بعد سامنے آیا تھا۔ جمعے کو انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک احتجاج کے دوران اشاروں کنایوں میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اگر آپ ہمارے گھر میں گھس کر ماریں گے تو ہم آپ کے گھر میں نہیں گھس سکتے۔ لیکن ہم آپ کے گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے۔’

یاد رہے کہ جمعے کی شام کو صحافی اور یوٹیوب ولاگر اسد طور پر تین نامعلوم افراد کی جانب سے ان کے گھر میں گھس کر تشدد کے بعد ان کی حمایت میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حامد میر نے ریاستی اداروں کو تنبیہ کی تھی کہ آئندہ کسی صحافی پر ایسے تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ ‘گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے۔’

اس تقریر میں حامد میر کی باتوں سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے۔

جنگ و جیو گروپ کا مؤقف
‘جنگ و جیو’ گروپ نے منگل کو شائع ‘جنگ’ اخبار میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حامد میر کی تقریر اور اس کے بعد سامنے آںے والے عوامی ردِ عمل پر ایڈیٹوریل کمیٹی اور وکلا کے ساتھ صورتِ حال کا جائزہ لیں گے کہ پالیسی یا قانون کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ اس دوران کیپٹل ٹاک کی میزبانی عارضی میزبان کے سپرد کی جارہی ہے۔

البتہ جیو نیوز سے منسلک تجزیہ کار اور سینئر صحافی مظہر عباس نے انتظامیہ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں حامد میر کو آف ایئر کرنے کے فیصلے کی منطق سمجھ نہیں آئی۔