الیکشن ملتوی کرناریاستی آئین پر حملہ تصور ہو گا، راجہ فاروق حیدر

آزاد کشمیر میں الیکشن کی گہماگہمی عروج پر ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹکٹوں‌کی تقسیم کا عمل بھی قریب قریب مکمل ہو چکا ہے. جماعتی ٹکٹ‌ملنے والے امیدواروں‌نے الیکشن مہم تیز کر دی ہے جبکہ ٹکٹ نہ ملنے پر مختلف جماعتوں کے امیدواران اپنی اپنی جماعتوں سے ناراضگی اور اپنے لیڈران سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں.

ان حالات میں‌ این سی او سی کی طرف سے الیکشن ملتوٰی کئے جانے کی سفارش پر ریاستی انتخابات غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گئے ہیں۔ کرونا وبا کی وجہ سے انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز پر ریاستی جماعتوں‌ کے مابین اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

تاہم ریاستی وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر نے انتخابات کو ملتوی کرنے کی سفارش کو مسترد کر دیا ہے۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر میں کرونا کیسز کم ہو رہے ہیں این سی او سی کی جانب سے انتخابات کے التوا کی بات سمجھ سے بالاتر ہے اور اس عمل کے ذریعے وفاق میں برسر اقتدار تحریکِ انصاف سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

اس سے قبل مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ کشمیر کے انتخابات کو ملتوی کرنا این سی او سی یا الیکشن کمیشن کشمیر کے دائرہ اختیار میں نہیں اور یہ اختیار صرف کشمیر کی پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے ذریعے استعمال کر سکتی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اگر انتخابات ملتوی ہوئے تو یہ آزاد کشمیر کے آئین پر حملہ تصور ہوگا.

خیال رہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مدت 29 جولائی کو ختم ہو رہی ہے تاہم اب تک انتخابات کا شیڈول جاری نہیں ہوا۔

اسی طرح ریاست کی دوسری ریاستی اور غیر ریاستی جماعتوں نے بھی انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت کو اُمیدوار نہیں مل رہے، اس لیے وہ راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہے۔ ‘انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار صرف کشمیر کی پارلیمنٹ کے پاس ہے.

این سی او سی کا کہنا ہے کہ جولائی میں انتخابات کا انعقاد اور اس سلسلے میں بڑے سیاسی اجتماعات کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔