مفتی عزیز الرحمن نے نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر جاری کر دیا۔

‎لاہور (کے ٹی وی نیوز تازہ ترین اخبار۔16جون 2021ء) مفتی عزیز الرحمن نے نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر جاری کر دیا۔

‎مفتی عزیز الرحمن نے ویڈیو لیک ہونے کے بعد ویڈیو پیغام سوشل
‎میڈیا پر جاری کر دیا
‎ویڈیو میں مفتی عزیر الرحمان کا کہنا ہے کہ ویڈیو منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی،مدرسے کے ناظم نے مجھے عہدے سے ہٹانے کے لیے نوجوان کو میرے خلاف استعمال کیا،نشہ آور چائے پلائی گئی جس کے بعد اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہا،دیکھا جا سکتا ہے میرا جسم حرکت نہیں کررہا جبکہ ویڈیو میں واضح ہے کہ نوجوان پر کوئی جبر نہیں ہے۔

ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ آج سے ایک ماہ چھ ماہ قبل بعض لوگوں کے ذریعے مجھے معلوم ہوا کہ میرے متعلق کچھ نازیبا ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔اس سلسلے میں جب میرے چاہنے والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھے اس حوالے سے ردعمل دینے کا مشورہ دیا۔
مفتی عزیز الرحمن کا کہنا ہے میں نے اپنی پاک دامنی کی وجہ سے ویڈیو سے مکمل طور پر انکار کیا۔ویڈیو کی تحقیقات کی گئیں میری پاک دامنی پر مکمل اعتماد کر کے ویڈیوز کو رد کیا گیا۔ایک ماہ قبل ایک صحافی نے نے رات کو فون کرکے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور مدرسہ چھوڑنے کے لیے کہا تاہم میں نے انکار کر دیا کیونکہ مجھے اپنی پاک دامنی پر بھروسہ تھا۔

تین جون دن کو کچھ لوگ میرے گھر ائے اور ان کو ویڈیو دیکھائی گئی اور بیٹوں سے مدرسہ چھوڑنے کو کہا ۔۔لیکن ویڈیو کو میرے حوالے نہیں کیا گیا اور اس وقت تک میں نے ویڈیوز ملاحظہ نہیں کیں اور نہ ہی میرے بیٹوں نے یہ ویڈیوز مجھے دکھائی کیونکہ میں دل کا مریض ہوں،میں نے ویڈیو اُس وقت دیکھی جب یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں لہذا اب میں اِن کی حقیقت بھی بیان کر سکتا ہوں۔
مفتی عزیز الرحمن نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ 25 سالوں سے جامعہ منظور اسلامیہ میں تدریس سے منسلک ہوں۔اس مدرسے کے مہتم اول مولانا پیر سیف اللہ خالد نقشبندی کا مجھ پر مکمل اعتماد تھا۔ان کی وفات کے بعد مدرسے کا انتظام ان کے صاحبزوں اسد اللہ فاروق اور خلیل اللہ ابراہیم حوالے کیا گیا،دونوں میرے شاگرد ہیں لیکن بدقسمتی سے دوںوں حضرات انتظام سنبھالنے کے بعد روز اول سے مجھ سے انتہائی طور پر خائف تھے اُنہیں خدشہ تھا شاید کہی میں مدرسہ پر قبضہ نا کر لوں
میرے عہدے اور عوام علاقہ کی محبت ان کے برداشت سے باہر تھی ۔انہوں نے میرے خلاف کئی بار پراپیگنڈا کیا کہ میں مدرسے پر قبضہ کر رہا ہوں لیکن میں حلفا کہتا ہوں کہ گذشتہ چار سال میں ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔گذشتہ رمضان کچھ لوگوں نے مدرسہ کی گرتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور مجھے عملی قدم اٹھانے کا کہا گیا جس کے بعد میرے خلاف صابر شاہ نامی نوجوان کو استعمال کیا گیا۔
ڈیڑھ سال قبل میرے بیٹوں سے اس کی لڑائی بھی ہوئی تھی۔ڈھائی سال بعد یہ ویڈیو منظر عام پر لائی گئی۔میں حلفاَََ کہتا ہوں کہ اپنے ہوش و حواس میں ایسا کوئی کام نہیں کیا،دراصل لڑکے نے ویڈیو بنانے سے قبل مجھے چائے میں نشہ آور چیز ملا کر پلائی جس کے بعد میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میرا جسم حرکت نہیں کر رہا،ویڈیو میں عیاں ہے کہ لڑکے پر کوئی جبر نہیں اور وہ آزادانہ ویڈیو بنا رہا ہے۔مجھے مدرسے سے نکلوانے کے لیے یہ ویڈیو منظرعام پر لائی گئی۔