عنوان : تکریم نفس حصہ تین از قلم : ضحی شبیر

حصہ تین
از قلم : ضحی شبیر

عنوان : تکریم نفس (Self esteem)
#don’t_copy

جب اپ اپنے نفس کو جان لیں تو اپنے نفس کو عزت دیں. اپنی ذات کو پہچان دیں. جو اپنی عزت نہیں کرتا ہے خود کی اہمیت نہیں جانتا وہ دوسروں کی عزت نہیں کر سکتا ہے وہ کبھی دوسروں کی اہمیت نہیں سمجھ پاتا ہے. بأصول بننا ضروری ہے. دل میں عزت نفس کا داعیہ پیدا ہونا قابل تحسین جذبہ ہے ۔بحیثیت انسان اور مسلمان اس بات کا احساس رکھنا ضروری ہے کہ میں قابل عزت تخلیق ہوں اور مجھے ذلیل نہیں ہوناجہاں عزت نفس کا جذبہ حد سے تجاوز کر جائے تو تکبر پیدا ہوتا ہے وہاں عزت نفس کا ختم ہونا باعث ذلالت ہے ۔ اسلام ہر شے میں اعتدال پسندی کا حکم ہے ہر انسان میں عزت نفس کا جذبہ اتنا ضرور ہونا چاہیئے کہ اس کے لیے اس کی ذات باعث فخر ہو باعث تکبر نہ ہو، کمتر و حقیر ترین نہ ہو یا افضل ترین بھی نہ ہو ۔ انسان کا تکبر اللہ کے نزدیک مبغوض جذبہ ہے.عزت نفس کا احساس ہی تو زندگی کی روح ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ (اسراء: ۰۷)
’’ اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ‘‘۔بنی آدم کو عزت ملنی چاہیے جب تک ہم خود کی قدر خود ہی کرتے ہیں لوگ بھی ہماری ذات کو عزت نہیں دیتے ہیں ہماری قدر نہیں کرتے ہیں۔ذرا سوچیں! کوئی آپ کی ماں سے آ کر کہے :”آپ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اٹھا لیں۔دنیا میں کیسے یہ زندگی گزارے گا..”
سوچیں کیا گزرے گی جب آپ کی ذات کی نفی کر دی جائے آپ کو کچھ سمجھا ہی نہ جائے. آپ کے وجود کو غیر اہم بلکہ فضول قرار دیا جائے آپ کی ذات کو زمین پر بوجھ سمجھا جائے. جس نے آپ کو جنم دیا ہو اسی کو آپ کے مرنے کے لیے دعا کرنے کا کہا جائے ۔ آپ کی کیا کیفیت ہو گی… آپ کس درد سے گزریں گے ۔ذات کرچی کرچی ہو جائے گی، اپنے آپ سے نفرت ہونے لگے گی. آنکھوں سے اشک برسیں گے اشکوں میں تکلیف بہے گی مگر دل اور دماغ میں درد بڑھتا چلا جائے گا. الفاظ دل پر نشتر بن کر لگیں گے ۔مگر درد کا وہ اک لمحہ کم حوصلگی اور پستی میں گرنے کے لیے نہیں آتا ہے خود کو احساس کمتری کا شکار کرنے کے لیے نہیں آتا ہے. با خدا وہ لمحہ آپ کی زندگی میں آپ کو کچھ بنانے کے لیے آتا ہے اس اک لمحے میں آپ کو خود کو پہچاننا ہوتا ہے خود کو جاننا ہوتا ہے خود کو تیار کرنا ہوتا ہے. کوئی سو دلیلیں لاکھوں ثبوتوں کے ساتھ لے کر آپ کی ذات کی نفی کو پہنچ جائے آپ نے ہر بات کو رد کر کے اپنی ذات کی تکریم کرنی ہوتی ہے اس لمحے میں اپنی ذات کو ذلت کے دلدل سے نکال کر باعزت اور بہترین مقام تک لے جانے کا آغاز ہوتا ہے ۔ زندگی کا وہ قیمتی وقت ہوتا ہے جب شکوہ نہیں شکر کر کے صابرین میں شامل ہونا ہوتا ہے ۔تاریخ گواہ ہے جب جب انسان نے تکریم اور تعمیر نفس کو اولین ترجیح دی تو تب تب دنیا نے اس فرد کو شخص نہیں شخصیت کہہ کر پکارا ہے ۔تکریم نفس میں عاجزی، انکساری اور فخر کے عناصر موجود ہونا چاہیے کیونکہ جب جب تکریم نفس میں غرور انا اور ضد نے سر اٹھایا تب تب انسان نے سر کو جھکایا ہے کبھی اٹھایا نہیں ہے. ذلت کو ہی پایا ہے۔آپ جانتے ہیں اوپر کہے جانے والا جملہ اک عورت نے اک بچہ کی ماں سے کہا تھا ۔وہ بچہ جس کی ٹانگیں پولیو کی وجہ سے بچپن میں معذور ہو چکی تھی وہ بچہ جو چلنا چاہتا تھا مگر چل نہیں سکتا تھا۔اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا، بھاگنا چاہتا تھا مگر وہ بے بس تھا وہ نہیں کر سکتا تھا. اس کی آزمائش ٹانگوں پر آکر رکی نہ تھی دس برس کا وقت گزرا تھا ۔اس بچے کی بینائی متاثر ہونے لگی وہ بینائی سے محروم ہو گیا ۔

تیرہ سال کی عمر میں اس بچے کو بیماری کا پتا چلا اور سہولیات نہ ہونے کے سبب اس بچے کی بینائی چھ ماہ میں مکمل طور پر چلی گئی. وہ بچے گھر کے اک کونے میں پڑا ہوا تھا. جب اس کی حس بصارت بھی نہ رہی وہ دنیا کے جن رنگوں کو بھاگ کر چھو نہیں سکتا تھا اب انہیں دیکھ نہیں سکتا تھا ۔جو دوستوں سے بیٹھ کر کھیلتا تھا اب وہ دیکھ بھی نہیں سکتا تھا. جس کے لیے دن رات اک جیسی تھی. کون سا رنگ کہاں لہرا رہا ہے کہاں موجود ہے وہ دیکھ نہیں سکتا تھا۔ ایک عورت اس بچے کی عیادت کو آتی ہے اس بچے کی حالت دیکھ کر اس کی ماں سے کہتی ہے”دعا کرو اللہ اس کو اس دنیا سے آپ کے ہوتے ہوئے اٹھا لے ۔آپ کے بعد دنیا میں اس کا سہارا کون ہو گا ۔”وہ بچہ کہتا ہے”اس عورت کی بات سے میرے دل پر جو گزری سو گزری مگر اس کی بات نے میرا دماغ کھول دیا.
مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے
ڈھیندا جو کچھ ڈھا دے
اک بندے دا دل ناں ڈھا دیں
رب! دلاں وچ رھیندا
اس ایک لمحے میں نے جینے کا فیصلہ کر لیا. میں نے سوچنا شروع کر دیا کائنات کی کوئی بھی شے بے کار اور بے مقصد تخلیق نہیں کی گئی تو میں بے مقصد کیسے ہو گیا ۔”اس بچے نے اس درد سے اپنی نئی زندگی کے لیے بیج بو کر آبیاری کی اور جینے کا فیصلہ کر لیا. دنیا میں میرا کچھ نہیں ہے مگر اللہ تو ہے نا۔
خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
لا ترج الا ربک ( القرآن ) اپنے رب کے علاوہ کسی سے امید نہ رکھو۔
بچے نے اپنے اللہ سے امید لگا دی۔ اسے ریڈیو سے بڑا لگاؤ تھا. بچپن سے ریڈیو سننے کا بڑا شوق تھا اور بینائی سے محروم ہونے کے بعد ریڈیو اس کی درسگاہ بنتا چلا گیا. اس نوجوان نے کتابیں سننا شروع کر دی. اس کے دوست اور اس کی بہنیں پوری پوری کتابیں پڑھ کر اسے ریکارڈ کر کے دیتے اور وہ نوجوان ان کتابوں کو سنتا چلا جاتا.کہانیاں لکھنے کا شوق اسے تب سے تھا جب وہ جسمانی معذور تھا مگر اس کی بینائی تھی ۔جب اس کی لکھی گئی کہانیاں رسالے میں چھپ کر آئی تو وہ بینائی کھو چکا تھا ۔وہ دیکھ نہیں سکتا تھا کہ اس کے الفاظ چھپ کر کس قدر انمول اور قیمتی ہو گے ہیں قوس قزح کے سارے رنگ اس میں سما گئے ہیں۔لیکن اس کے لیے کائنات تھمی نہیں تھی اس کا سفر رکا نہیں تھا اس نے طے کر لیا تھا وہ دیکھ اور چل نہیں سکتا مگر سن اور بول تو سکتا ہے. وہ اس آیت کی تفسیر بنتا چلا گیا ۔جو شخص اللہ سے ڈرتا ہو اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ نکال دیتا ہے ۔اسے ایسی جگہ سے روزی عطاء کرتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو۔اس آیت کی تفسیر میں وہ شخص بہترین مثال ہے ۔اللہ نے آزمائش میں ڈال کر بھی تو اسے بہت نوازا ہوا ہے ۔وہ سننے اور بولنے کی حس کا استعمال کرتا چلا گیا اور پندرہ سو کتابوں کو زبانی یاد لیا. اس نوجوان کو آج دنیا “آر جے محسن نواز” کے نام سے جانتی ہے. اس کے اس دھرتی پر ہونے سے دھرتی ناز کرتی ہے اس کی باتیں دلوں کو شاد کرتی ہیں۔ اس کے جذبوں کو ہر شے سلام کرتی ہے اس کے انداز گفتگو پر دنیا محبتیں قربان کرتی ہے. جس کے سہارے کے لیے کوئی فکر مند تھا آج وہ کہیں مایوس راہوں میں روشنی کی کرن ہے تو کہیں ڈوبتے لوگوں کا سہارا ہے کہیں لوگوں کو زندگی کی طرف واپس لا رہا ہے کہیں دلوں میں محبت کے دیپ جلا رہا ہے کہیں لوگوں کو اللہ سے ملوا رہا ہے. صبر و شکر کا ایسا پیکر بن گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے اس کے لب نہیں اس کی بند آنکھیں اور سینے میں دھڑکتا دل چیخ چیخ کر اللہ سے محبت کی دہائی دیتے ہیں. اس کو اک لمحہ سن کر آپ ہزار لمحہ اللہ کو یاد کر لیتے ہیں.آج اگر اللہ تعالیٰ اس سے کہیں تم مجھ سے جو بھی مانگو گے میں تمہیں عطا کروں گا. مجھے یقین ہے وہ شخص کبھی آنکھوں کی بینائی اور چلنے کی صلاحیت کا مطالبہ نہیں کرے گا وہ نہیں چاہے گا کہ اس کو بصارت ملے تو وہ حسین ترین رنگوں کو دیکھے یا چل چل کر ہر شے کو محسوس کر سکے. میرے دل کہتا ہے اگر اللہ تعالیٰ اس سے کہیں گے تو وہ شخصیت اک ہی شے کا مطالبہ کرے گی.اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں ۔اسے کہتے ہیں تکریم نفس جب کوئی آپ کی ذات کو عزت نہ دے. تب آپ خود کو عزت دیں ۔اپنی تذلیل و تحقیر نہ ہونے دیں ۔دنیا کو کچھ کر کے بتائیں ہاں ایسے بھی ہوتا ہے۔ایسے نفس کو عزت دی جاتی ہے

#ضحی_شبیر