اضطراب از قلم حمیرا طارق

درسی کتب سازی کا معیار

اقوام عالم کے مطالعے سے ایک حقیقت نمایاں طور پر واضح ہوتی ہے کہ جب کوئی قوم تعلیمی میدان میں ترقی کرتی ہے تو اس قوم کو عظمت اور سر بلندی عطا ہوتی ہے۔

ایک مربوط اور منظم تعلیمی نظام تعلیمی میدان میں ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔

چوں کہ نظام تعلیم کی بنیادی اکائی درسی کتب ہوتی ہیں اس لئے ترقی یافتہ اقوام کے اہل بصیرت اور ماہرین تعلیم درسی کتب کی اہمیت اور حساسیت کا ادراک رکھتے ہوئے درسی کتب کا معیار بلند کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اور درسی کتب کی تیاری کے تمام مراحل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان اقوام کی درسی کتب نا صرف درسی مواد کے اعتبار سے شاندار ہوتی ہیں بلکہ نقائص سے بھی پاک ہوتی ہیں۔

بد قسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیمی نظام کی دیگر اکائیوں کی طرح بنیادی اکائی درسی کتب کی تیاری میں بھی مجرمانہ غفلت برتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری درسی کتب میں اغلاط کی اس قدر بھرمار ہوتی ہے کہ درسی مواد کی افادیت بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ مظفرآباد نے آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں تدریس کے لئے درسی کتب کی تیاری کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے۔ یہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں کس طرح سر انجام دے رہا ہے اس کا فیصلہ قارئین کرام مندرجہ ذیل سطور پڑھنے کے بعد خود کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

طوالت سے بچنے کے لئے صرف دو کتابوں کے اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔ مطالعہ پاکستان جماعت نہم ( اردو میڈیم) کا ذکر کیا جاتا ہے۔

ساری اغلاط کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن تو نہیں ہے لیکن نمونے کے طور پر چند اغلاط کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

صفحہ نمبر 21 پر لکھا گیا ہے کہ مسلم لیگ ہندوستان کے مطالبہ آزادی کی توفیق کرے گی۔

صفحہ 28 پر برطانوی دارالعوام کو برطانوی دارلعلوام لکھا گیا ہے۔

صفحہ 32 پر لکھا گیا ہے کہ معاشرہ مزید طبقاتی نظام کا شار ہو گیا۔

مزید کچھ اغلاط ملاحظہ فرمائیں۔

یہ برف پگھل کر دریاؤں میں پانی کی راوین کا باعث بنتی ہے( صفحہ 43) ۔

صفحہ 48 میں پاکستان کے محل وقوع کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان خط استوا سے اوپر حاری خطے میں 23.30 ڈگری طول بلد اور 37 ڈگری عرض بلد کے درمیان واقع ہے۔ اس فقرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھنے والا کسی ملک کے محل وقوع کے بارے میں بنیادی اصولوں سے واقف ہی نہیں۔ علم جغرافیہ سے واقفیت رکھنے والا ایک عام شخص بھی جانتا ہے کہ کسی ملک کے محل وقوع کے بیان میں چار ڈگریز کا ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جن میں دو ڈگریز شمالی یا جنوبی عرض بلد اور دو ڈگریز مشرقی یا مغربی طول بلد۔

اس لحاظ سے پاکستان 23.30 ڈگری سے 37 ڈگری شمالی عرض بلد اور 61ڈگری سے 77 ڈگری مشرقی طول بلد کے درمیان واقع ہے۔

صفحہ 63 پر لکھا گیا ہے مکران کا ساحل، کراچی کا ساحل ۔

اسلام کو پاکستان کے آئین کی نظریاتی احساس قرار دیا گیا۔ یہاں لفظ اساس کو احساس بنا دیا گیا۔

(صفحہ 85) ۔ صوبائی مصیبت کو ہوا دی جا رہی تھی

(صفحہ 92) ۔ پارٹی کے سرکردہ لیڈروں میں ڈودھری خلیق الزماں قابل ذکر تھے

( صفحہ 96) ۔ خواتین نے اپنے جہیز اور زیورات بیچ کر جنگلی فڈز میں اپنا حصہ ڈالا۔

اب ٹیکسٹ بک بورڈ والوں سے کوئی پوچھے کہ جنگلی فڈز ہوتا کیا ہے( صفحہ 105) ۔ صفحہ نمبر 105 پر درج ہے کہ تقریاتی اخراجات کے لئے مجوزہ وسائل میں کمی کرنی پڑی۔

مطالعہ پاکستان جماعت نہم کے بعد کلاس 7th کی میتھس کی کتاب(انگلش میڈیم ) سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔

مشق نمبر 1.1 سوال نمبر 2 جز 5 ، یہاں 51 اور 57 کو پرائم نمبرز قرار دیا گیا ہے۔ صفحہ نمبر 11 پر distributive property کو prove کرنے کے لئے جو مثال دی گئی ہے، اس مثال میں LHSاور RHS آپس میں برابر نہیں ہیں اس کے باوجود پراپرٹی کو proved قرار دے دیا گیا ہے۔

صفحہ 12 پر properties involving complement of a set کے ذیل میں ایک پراپرٹی ‘U ='{ } لکھی گئی ہے۔ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔ یعنی U کمپلیمنٹ اور خالی سیٹ کا کمپلیمنٹ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ صفحہ نمبر 25 پر 7×3 کا جواب 35 لکھا گیا ہے۔

صفحہ 25 پر درج commutative property کی example کی RHS ملاحظہ فرمائیں۔ صفحہ نمبر 51 میں ایک عدد رومن گنتی میں اس طرح viiii لکھا گیا ہے۔

(آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی علم ریاضی کی ایک نئی دریافت )۔ صفحہ نمبر 51 پہلی لائن کے مطابق 2 اور 3 کا مجموعہ 6 ہوتا ہے۔ یعنی 3+2=6 ۔ مشق نمبر 11.4 سوال نمبر 2 جز نمبر 2 کے مطابق طلبہ کو ایک ایسی متوازی الاضلاع بنانے کے لئے کہا گیا ہے جس کا ایک ضلع 6.5 سینٹی میٹر ، دوسرا ضلع 4.3 سینٹی میٹر، اور تیسرا ضلع 40 میٹر لمبا ہو۔ یہ سوال بنانے والے سے کوئی پوچھے کہ 40 میٹر لمبا ضلع کس چیز پر بنے گا؟ صفحہ نمبر 132 سوال نمبر 3 کی جز نمبر چار میں ایک ٹرائی اینگل کے تینوں زاویوں کی مقداریں 40 ڈگری ، 60 ڈگری اور 80 ڈگری لکھ کر پوچھا جا رہا ہے کہ نا معلوم زاویوں کی مقداریں معلوم کریں۔ کس قدر مضحکہ خیز سوال ہے۔ ایک ٹرائی اینگل میں زاویے ہی تین ہوتے ہیں۔ جن کی مقداریں آپ نے خود درج کر دی ہیں۔ اب پوچھنے کے لئے کیا رہ گیا ہے؟

مندرجہ بالا چند سطور میں چند اغلاط بطور نمونہ درج کی گئی ہیں۔ ان کتب میں سو سے بھی زائد اغلاط پائی جاتی ہیں۔ پوری ذمہ داری سے یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع کردہ دیگر کتب میں بھی اسی طرح کی اغلاط کثرت سے پائی جاتی ہیں۔

قائدین کرام ! یہ ایک اصولی بات ہے کہ درسی کتب کو اس طرح کی اغلاط سے پاک ہونا چاہیے اس لئے درسی کتب کی پروف ریڈنگ کا عمل انتہائی مہارت سے ہونا نہایت ضروری ہے۔ کتاب کی پرنٹنگ سے قبل یہ یقین کر لینا ضروری ہے کہ کتاب پرنٹ ہونے کے بعد اغلاط سے پاک ہوگی۔ اگر درسی کتاب اغلاط سمیت مارکیٹ میں پہنچ جاتی ہے تو یہ سنگین غفلت شمار ہوگی۔

لیکن آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی غفلت “سنگین غفلت” سے بھی بہت آگے کی کوئی چیز ہے۔ اندازہ کیجئےکہ مذکورہ بالا دونوں کتب کی تیاری 2018 میں شروع کی گئی۔ 2019 کو ان کتب کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا۔ 2020 کو دوسرا اور 2021 کو تیسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ ان تینوں ایڈیشنز میں صرف اتنا فرق ہے کہ ٹائٹل پیجز کے رنگ، year of printing اور پچھلے سال کے مقابلے میں قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا۔ ان تبدیلیوں کے علاوہ صرف ایک اور تبدیلی دیکھنے میں آئی کہ پہلے آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کا گھوڑا 2019 اور 2020 میں دو منٹ میں صرف ایک میٹر کا فاصلہ طے کرتا تھا۔ 2021 میں اس کی رفتار خاصی تیز ہوگئی اور وہ دو منٹ میں ایک کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے لگا۔ (کلاس 7th کی میتھس کی کتاب کا صفحہ نمبر 85 ملاحظہ فرمائیں ) ۔

اس تبدیلی کے علاوہ تینوں ایڈیشنز میں تمام اغلاط جوں کی توں موجود ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بورڈ کے پاس درسی کتب کی اشاعت کے بعد ان کے معیار کو جانچنے اور ان کے ریویو کا کوئی سسٹم ہی موجود نہیں ہے۔ (البتہ ساری توجہ گھوڑے کی دیکھ بھال پر دی جاتی ہے )۔ صاحبان اقتدار سے گزارش ہے کہ تعلیمی عمل کی اہمیت اور اس کی نزاکتوں کو محسوس کیا جائے۔ اور اس عمل کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اس طرح کے غافلین کو خواب غفلت سے بیدار کیا جائے۔ اور ان میں احساس ذمہ داری اور فرض شناسی کے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ ورنہ دنیا ہم سے بہت دور نکل جائے گی اور ہم اندھیروں میں گم ہو جائیں گے۔