احتجاج برائے حقوق سٹی کیمپس یو پی آر،ساڈا حق ایتھے رکھ” “باہر پٹرول بک رہا ہے اور اندر تعلیم بک رہی ہے

احتجاج برائے حقوق سٹی کیمپس یو پی آر

ضحی شبیر

“ساڈا حق ایتھے رکھ”
“باہر پٹرول بک رہا ہے اور اندر تعلیم بک رہی ہے”
“How can i value a system that doesn’t value me”
“،give us rooms not caves we are students not a animals”.
ایسے ہی کہیں جملوں پر مشتمل چارٹس اور بینر اٹھائے طلبا و طالبات صبح شیل پمپ پر موجود تھے ۔ دھرنا، آزادی مارچ، لانگ مارچ، احتجاج اور مظاہرے یہ سب اتنا عام ہو گئے ہیں کہ ان کو ہونا بالکل نارمل لگتا ہے ۔ کیوں ہمارے یہاں آئے روز
مطالبات کو مکمل کروانے کے لیے یہ جاری رہتے خواہ وہ مطالبہ سیاسی طور پر ہو، تعلیمی طور پر، طبی میدان میں یا عدالتی نظام کے لیے ۔
یونیورسٹی آف پونچھ سٹی کیمپس کے طلباء و طالبات کو 7 ستمبر بروز بدھ سٹرائیک کی کال دی گئی ۔احتجاج نارمل ہی لگ رہا تھا کہ طلباء و طالبات نے اپنے کوئی مطالبات منوانے ہوں گے تبھی یوں سڑکوں پر نکل آئے
لیکن دھرنا کا ہونا باعث حیرت تب بنا جب طلبہ و طالبات کے کیے جانے والے مطالبات کی فہرست کا معلوم ہوا ۔
سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی سٹی کیمپس کے ممبران نے احتجاج کی کال دینے سے قبل یونیورسٹی کی انتظامیہ سے باقاعدہ میٹنگ کی اور اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے دو ماہ کا وقت دیا کہ اس دوران جن جن مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے حل کیا جائے مگر دو ماہ گزرنے کے بعد بھی کسی قسم کی ہلچل نہ ہوئی سکوت ہی طاری رہا تو پھر سٹی کیمپس ایکشن کمیٹی کے ممبران نے احتجاج کی طرف قدم بڑھایا
‏میں یوں ہی نہیں دست و گریباں زمانے سے
میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں
چارٹر آف ڈیمانڈ میں لکھے انیس مطالبات ایسے تھے جو کسی بھی ادارے میں جانے والے طلبا و طالبات کے بنیادی حق ہیں جو مانگے نہیں جاتے بلکہ ملک و قوم کے معماروں کو فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ ان بنیادی حق سے محروم نہ رہیں کہ جب وہ فرائض پورے کرنے کے قابل ہوں تو انسانیت کے بنیادی تقاضوں، معاشرتی زندگی کے اہم پہلوؤں، معاشرے کے بنیادی حقوق سے ایسے لاعلم نہ ہوں کہ ان کو حقوق و فرائض بوجھ محسوس ہوں اک بوسیدہ اور گلے سٹرے معاشرے کی ابتدا ہو ۔جہاں جائز وناجائز اور درست و غلط کے مابین فرق باقی نہ رہ پائے ۔
کرسی ہے ، تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

ان مطالبات کو دیکھنے کے بعد بے حد افسوس ہو رہا تھا کہ ایسا ادارہ جہاں سے سال ہا سال سینکڑوں طلباء ایسے مضامین میں ڈگری لے کر نکلتے ہیں جو پڑھنے سے زیادہ عملی تجربات پر منحصر ہیں ان مضامین کے لیے جدید انتظامات، آلات پر مشتمل لیبز ہی موجود نہیں۔
ان مطالبات کو دیکھنے کے بعد بے حد افسوس ہو رہا تھا کہ ایسا ادارہ جہاں سے سال ہا سال سینکڑوں طلباء ایسے مضامین میں ڈگری لے کر نکلتے ہیں جو پڑھنے سے زیادہ عملی تجربات پر منحصر ہیں ان مضامین کے لیے جدید انتظامات، آلات پر مشتمل لیبز ہی موجود نہیں ہیں وہ طلباء و طالبات جن کو قوم کا معمار اور اقبال کا شاہین کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ وہ سڑکوں پر اس لیے بیٹھے ہیں کہ ان کو ادارے میں پانی کی فراہمی نہیں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پانی کی فراہمی نہیں. جن کمروں میں وہ تعلیم لے رہے ہیں وہاں پانی ہی میسر نہیں ہے. جہاں ہر روز سائنسی میدان میں نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں وہاں ملٹی میڈیا جیسی سہولت تک میسر نہیں ۔اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے نصاب میں موجود تجربات عملی طور پر کرنے کے لیے سامان موجود نہیں ہے ۔
جہاں دنیا تجرباتی دور میں داخل ہو چکی ہے رٹا مار پڑھائی کے بجائے تجربات بنیاد بنتے جا رہے ہیں.
لازم ہے کہ ہو علم کے دامن میں عمل بھی
سرسبز جو اشجار ہیں وہ رکھتے ہیں پھل بھی
یونیورسٹی نوجوانوں کی زندگی کا وہ حصہ ہے جہاں وہ سیکھتے ہیں منزل کا تعین کرتے ہیں جہاں وہ خود جانتے ہیں پہچانتے ہیں وہ معاشرتی سیاسی اور معاشی علوم سے باخبر رہنا چاہتے ہیں ۔
تاکہ تشریحی، تنقیدی اور اختلافی شعور کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔ وہاں طلباء حالات حاضرہ پر گفتگو کرنے کے لیے جگہ کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔مطالعاتی اور تفریحی دوروں کے بندوبست کی مانگ کر رہے ہیں ۔ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ جیسی مانگیں کر رہے ہیں ۔یعنی کہ موجودہ نظام تعلیم اور انتظامیہ ایسا نوزائیدہ بچے ہیں جن کو سیکھنے کے لیے آنے والے طلباء و طالبات اک اک بات انگلی پکڑ کر سمجھائیں گے کہ یہاں یہ ہونا چاہیے تھا یہاں اس کو ہونا چاہیے یہ ملنا ضروری ہے یہ ملنا چاہیے ۔
ہم یہاں قوم کے معمار مستقبل میں ملک کی تعمیر میں مضبوط اینٹ کا کردار ادا کریں گے تو برائے مہربانی ہمارے لیے ایسے کیفے کا انتظام کیا جائے جو انتظامیہ کے زیر نگرانی ہو جہاں معیاری غذا کا بندوبست ہو کیوں کہ ایک صحت مند دماغ کے لیے معیاری غذا ضروری ہے.
حالانکہ یونیورسٹی میں صفائی، کلاس رومز میں اچھی روشنی کا نظام، درجہ حرارت کا نظام، معیاری ورکشاپس، معیاری کیفیٹریہ، اورینٹیشن رومز، جدید آلات پر مشتمل لیبارٹریز، طلباء کے مسائل کے لیے کمیٹی اور صاف پانی وغیرہ طلباء کے بنیادی حقوق ہیں۔
دھرنے میں جہاں طلباء نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے وہاں ہی اساتذہ کے لیے بھی مطالبات تھے ان کے حقوق کی بھی مانگ تھی کہ ہمارے اساتذہ کو دڑبے نما کیبن سے نکال کر بہترین جگہ اور سہولیات فراہم کی جائیں ۔اساتذہ کرام ہی وہ قابل محترم شخصیات ہیں جن نے ہماری سوچ، کردار اور شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنا ہے ۔ اساتذہ کرام کو میس اور ہاسٹل کی مناسب سہولیات میسر کی جائیں ۔
تقریباً پانچ گھنٹے رہنے والا دھرنا یونیورسٹی کے اک غار نما کمرے میں طویل مذاکرات کے بعد ختم ہوا۔ انتظامیہ نے مسائل کے فوری طور پر حل کروانے کو یقینی بنایا ۔ یقیناً جب جب ذہنی آزادی کو فرسودہ نظام کی بیڑیاں پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے جب جب آواز کو طاقت کے بل پر دبایا جاتا ہے تب تب جوش سے ابھرنا مقدر بن جاتا ہے ۔ ذہنی آزادی ظالمانہ اور بغاوت کو جنم دیتی ہے ۔ بغاوتیں جب جب سر اُٹھایا کرتی ہیں ۔ اک ہی آواز، ساز، سوز سر لے اور تال کے ساتھ گونجتی ہے ۔
انقلاب، انقلاب، انقلاب
دھرنا تو ختم ہوا مگر بہت سی باتوں پر گہرا سوالیہ نشان چھوڑ گیا
کیا عملی تعلیم کے بغیر صرف پڑھنے سے معاشرے میں کسی تعمیر و ترقی کی امید کی جا سکتی ہے؟
انیسویں صدی کے نصاب میں جکڑے دماغوں میں اکیسویں صدی کی کوئی ایجاد تخلیق لے سکتی ہے؟
کیا نظام تعلیم کا معیار اس قدر گر ہوا ہے جدید تعلیم سے ناآشنا طلباء و طالبات کی ڈگریاں صرف کاغذ کا ٹکڑا ہی ہیں؟
کیا ایسے ماحول میں جہاں بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں تک آنا ہو، پروان چڑھنے والے ذہنوں میں مثبت اور محب وطن سوچ جنم لے سکے گی؟
طلباء و طالبات جب خود حقوق سے محروم زندگی گزاریں گے تو کل جب وہ فرائض کی ادائیگی کے مقام پر پہنچیں گے ان کے فرائض جو دوسروں کے حقوق ہوں گے بہترین انداز میں ایمان داری سے منصفانہ اور عادلانہ طور پر ان کو ادا کر پائیں گے؟
کیا ہمارے ملک میں ہر طرف اتنا بوسیدہ برا اور گرا ہوا نظام رائج ہو چکا ہے کہ اگر سڑکوں پر بیٹھ پر بنیادی حقوق تک کے لیے نعرے اور احتجاج نہ کیا جائے تب تک ارباب اختیار کو احساس ذمہ داری نہیں ہے نہ ہی ان کو اپنے فرائض کو انجام دینے کا شعور ہے؟
کیا یر ارباب اختیار کی قوت سماعت تب تک مفلوج ہے جب تک بیٹیاں بھی سڑکوں پر نہ نکل آئیں اور چیخ چیخ کر مسائل بتائیں؟
وہ اساتذہ کرام جو معاشرے میں ہر شعبے میں ترقی کی بنیاد ہیں۔جو اس بیج کی مانند ہیں جو نہ ہو تو تناور درخت نہ پروان چڑھ سکے ۔جو اس ہلکی سی بارش کی طرح ہیں جو زمین کے اندر رستی چلی جاتی ہے اس بارش کے فائدے تب ہی نظر آتے ہیں جب بنجر زمین سبز قالین بچھائے خوبصورت پھولوں میں لپٹی آنکھوں کو خیرہ کر کرتی ہے ۔ کیا ان کو وہ مقام وہ سہولیات ہی نہیں ملتی کہ وہ شعبوں میں ترقی دے سکیں؟
شور کے بعد جو کام اک دن میں مکمل کیے جاتے ہیں کیا وہ کام معزز طور پر بغیر شور سنے اپنے عہدے کے مطابق احساس ذمہ داری کرتے ہوئے وقت پر نہیں کیے جا سکتے ہیں..؟

کیا ہم اسناد اور ڈگریاں رکھتے خواندہ فہرست میں شامل جاہل ذہن ہیں .؟
کیا ہمارے اللہ سے تعلقات اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ ہمیں اس بات کا شعور نہیں کہ اس چند سالہ سفر کے اختتام پر نتائج بھی ہیں جن میں ہر عہدے، ہر سہولت، ہر فرض، ہر ذمہ داری اور ہر عمل کے لیے جواب دہ ہونا ہے؟

جو جو قومیں تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کرتی ہیں وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں ان کا وجود قائم رکھنا اور شناخت بنائے رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بشارتوں کے دیے جلاۓ۔۔۔۔کوئی تو آۓ!!
کہ سایہ رنج و غم مٹا۔۔۔۔۔۔ کوئی تو آۓ!!
جہاں بہاروں میں نوچے جاتے ہوں سبز پتے۔۔۔
وہاں خزاؤں میں گل کھلائے۔۔۔۔کوئی تو آۓ!
کوئی تو آنکھوں میں جلملاۓ ستارہ بن کر۔۔۔۔۔۔۔
اندھیری راتوں میں جگمگاۓ۔۔۔۔۔کوئی تو آۓ