حطہ کشمیر میں تحصیل منگ کو اک ممتاز خثیت حاصل ہے وہ جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پر ازقلم۔سردار عبدالغفار خان

وہ جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پر

ازقلم۔سردار عبدالغفار خان

حطہ کشمیر میں تحصیل منگ کو اک ممتاز خثیت حاصل ہے جسکی مختلف وجوہات ہیں ان میں اک وجہ جامع مسجد منگ اور مرد درویش ولی کامل مولانا محمد یسین خان رحمتہ اللہ تھے وجہہ شکل و صورت باوقار پرنور چہرہ لہجے میں شیرینی شرافت و حیا کے پیکر
ریکارڈ کے مطابق تاریح پیدائش ١٩٣٦ ہے ابتدائی تعلیم پرائمری سکول میں حاصل کی اور ساتھ میں دینی تعلیم کی تڑپ میں شیح الخدیث مولانا محمد یوسف خان کے مدرسہ میں داخل ہو گے
ابتدائی دینی کتب ت شیخ الخدیث مولانا محمد یوسف خان سے پڑھی اسی اثنا میں 1947 کی جنگ شروع ہوگئ
لڑائی کے دوران مدرسہ جل گیا

1949 میں مولانا نذیر احمد کے ساتھ پلندری گئے اور مدرسہ میں داخل ہوئے اور شیخ الخدیث محمد یوسف خان اور مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی کی شاگرد رہے ازاں بعد 1954سے 1959 تک خیرالمدارس ملتان میں تعلیم حاصل کی مولانا خیر محمد جالندھری ،مولانا عبیداللہ ۔مولانا جمال الدین افغانی ،مولانا فیض احمد مولانا مفتی سرور دستار بندی مولانا قاری طیب نے کی


1960میں خیر المدارس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جامع مسجد منگ میں بطور حطیب و امام۔منتخب ہوئے
1960میں ہی مدرسہ۔اشاعت السلام۔کی بنیاد رکھی پہلے ناظرہ اور پھر حفظ القرآن کی کلاسز کا اجرا کیا ۔١٩٦۵ کے بعد کتابوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے ستاد مولانا یاسین رحمتہ اور مولان محمد خیات رحمتہ اللہ تھے جامع مسجد منگ اور اس کے متصل مدرسہ حضرت کا بڑا کارنامہ ہے مولانا بہت سے تاریخی واقعات کے عینی شاہد ہیں ۔مولانا یاسین خان نے مشکل ترین خالات میں مدرسہ اور مسجد کے نظام کو چلایا مولانا کے ہزاروں شاگرد دنیا بھر میں درس و تدریس کے حوالے سے دین اسلام کی سربلندی کیلئے کوشاں ہیں۔آپ کے شاگرد ریاست کے کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں ۔آپ نے 86سالہ زندگی میں دین اسلام۔کیلئے شبانہ روپے روز کاوشیں ہیں آٹھ میجر آپریشن ہوئے ہیں
خرابی صحت کے باوجود تدریسی خدمات جاری رکھی
طویل عرصہ تک مختلف امراض میں مبتلا رہے ۔مگر بیماری کو کبھی خود پر حاوی نہ ہونے دیا بلکہ جاری سیلاب متاثرین کیلئے مختلف جہگوں پر فنڈ ریزنگ کیمپوں میں۔خود تشریف لے جاتے اور رضاکاروں کو حوصلہ دیتے ۔04ستمبر کو دل کی تکلیف کے باعث راولپنڈی کے نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی غرض سے لائے گئے جہاں پر دو روز تک زیر علاج رہے دوران علاج ہی حرکت قلب بند ہونے کے باعث داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ پونچھ کی فضا سوگوار ہوگی جامع مسجد منگ کے متصل نماز جنازہ شیخ الخدیث مولانا سعید یوسف خان نے پڑھائی ہزاروں سوگوران کی آہوں اور سسکیوں میں جامع مسجد منگ کے ساتھ ایک عظیم استاد کو سپرد خاک کردیا گیا