وزیر صحت آزاد کشمیر کی اسمبلی میں تقریر کے حوالہ سے YDA سدھنوتی کا ردعمل

وزیر صحت کا اسمبلی میں خطاب عوام اور معزز اسمبلی ممبران کو اعداد و شمار کے پیج و خم میں الجھا کر اصل مطالبات اور اصل مسائل سے توجہ ہٹوانے کی ایک دانستہ کوشش تھی ۔

وزیر صحت کے خطاب سے کم از کم اتنا تو معلوم ہوا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات براہ راست عوام کی صحت کے متعلق ہیں۔ اور ینگ ڈاکٹز جو جنگ سڑکوں پر لڑ رہے ہیں وہی جنگ بند کمروں کے مذاکرات میں بھی اسی ترتیب سے لڑی ہے ۔

بلاشبہ ڈاکٹرز کے حقوق کا معاملہ بھی ہمارے پیش نظر ہے اور ہم ریاست سے اپنے جائز حقوق لے کر رہیں گے ۔

آئیے وزیر صحت کے اٹھائے گئے پوائنٹس کا ترتیب وار جائزہ لیتے ہیں ۔

1. *ہاوس جاب کی سیٹس*
*وزیر صحت کا دعوی :*
اسی مالی سال میں 300 ہاوس آفیسرز کی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں ۔

پہلی بات یہ کہ ہاوس جاب کی آسامیاں میڈیکل کالج سے منسلک ٹیچنگ ہاسپٹل کا لازمی حصہ ہوتی ہیں ۔یہ کوئی الگ سے احسان یا کارنامہ نہیں ۔ پی ایم ڈی سی کے رولز کے مطابق ہاوس جاب فراہم کرنا ہر میڈیکل کالج کی ذمہ داری ہے ۔
دوسری بات یہ کہ آزاد کشمیر کے ان ہسپتالوں سے 3 3 بیجز ہاوس جاب کر کے فارغ ہو چکے ییں ، تو *اس مالی سال* میں آسامیوں کی تخلیق والی بات تو بالکل ہی عجیب ہے ۔

2. *پی جی ٹریننگ کی سیٹس*
وزیر صحت نے 196 پی جی سلاٹس کی بات کی ۔

اصولا آزاد کشمیر کے تمام انڈر گریجویٹس کے لئے پوسٹ گریجویٹس ٹریننگ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔
لیکن یہاں بھی 300 سے زائد گریجویٹس کے لئے سالانہ تیس چالیس سے زیادہ آسامیاں نہیں ہوتیں ۔
اور ان آسامیوں پر بھی ٹریننگ کر کے لوگ اب سپیشلسٹ بھی بن چکے ہیں ، وزیر موصوف جن آسامیوں کو اس مالی سال کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں ۔

3. *ٹرشری کئیر ہاسپٹل*

وزیر صحت نے وائے ڈی اے کی ایک اہم ترین ڈیمانڈ آزاد کشمیر میں ٹرشری کئیر ہاسپٹلز کے قیام ( اور نتیجتا بیرون آزاد کشمیر ریفرل کے خاتمہ ) پر بات کی ۔
لیکن یہاں انہوں نے اصل موضوع کو زیر بحث لائے بغیر اعداد و شمار کے چکروں کے ذریعے بات کو گول کرنا مناسب سمجھا.
بلاشبہ ٹرشری کئیر ہاپسٹل میں بیڈز کا اضافہ بھی ایک موضوع ہے لیکن آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد سے کئی زیادہ بڑا مسئلہ مطلوبہ تشخیصی و طبی سہولیات کی عدم دستیابی ہے. سی ٹی سکین ، ایم آر آئی ، لیب ٹیسٹس جیسی بنیادی تشخیصی سہولیات ، مختلف سپیشلٹیز کی او پی ڈی اور آپریشن سروسز کے لئے درکار طبی و جراحی آلات اور درکار طبی مہارتوں کو موضوع بنانے کے بجائے بیڈز کی تعداد کے پیچھے عوام کو لگانے کی کوشش کی گئی ۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر پلندری اور راولاکوٹ تو ایک لمبے عرصہ سے “زیر تعمیر ” ہی ہیں .
ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے کہ *ٹرشری کئیر ہاسپٹلز کے لئے مطلوبہ طبی و تشخیصی سہولیات اور مطلوبہ طبی مہارتیں فراہم کی جائیں ۔* وزیر صحت کے خطاب میں اس حوالہ سے کوئی وضاحت نہ تھی ۔

میڈیکل کالج میں یکم کو تنخواہ ملنا

جی ہاں ,۔۔ آزاد کشمیر کے وزیر صحت اس روٹین کے بزنس کو بھی اپنا کارنامہ سمجھ رہے اور ہم سے داد و تحسین طلب کر رہے ہیں ۔

*وفاق کے برابر حقوق :*

ماضی میں پے درپے وعدہ خلافیوں کے باعث ہمارا اس حکومت کے زبانی وعدوں یا اعلانات پر مزید اعتبار نہیں رہا ۔ وفاق کی کمیٹی کے اعلان تک ہم انتظار کرنے کو تیار ہیں ، لیکن اس کے ساتھ ہم محکمہ خزانہ سے یہ نوٹیفیکیشن چاہتے ہیں کہ وفاق کی اس کمیٹی کا دو ماہ میں فیصلہ نہ آنے کی صورت میں آزاد کشمیر حکومت ہمارے حقوق وفاق کے برابر کر دیگی ۔
حکومت اگر مخلص ہے تو اس بے ضرر مطالبہ کو پورا
کیوں نہیں کر رہی ؟؟؟ ویسے جس وفاقی کمیٹی کا وزیر موصوف تذکرہ فرما۔رہے ہیں اسکا غالبا ابھی تک عملا وجود ہی نہیں ہے ۔

وزیر خزانہ و صحت نے باقی مطالبوں آبادی کے تناسب سے سپیشلسٹ حضرات اور ڈاکٹرز کی تقرری اور سب سپیشلٹیز کے ڈیپارٹمنٹس کے قیام کی بات کی ، یہ مطالبات بھی براہ راست عوام کی صحت سے متعلق ہی ہیں ۔

وائے ڈی اے چارٹر آف ڈیمانڈ کے مکمل عملدرآمد تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے ۔